جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی میں ایک مسافر ایبولا وائرس کے شبے میں ایئرپورٹ سے ہسپتال منتقل

datetime 1  دسمبر‬‮  2014 |

کراچی۔۔۔۔ پا کستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک مسافر کو ایبولا وائرس کے شبے میں ایئرپورٹ سے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جہاں اس کی سکریننگ کی جائے گی۔شہر کے سب سے بڑے سرکاری ہپستال جناح کے شعبہ حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ مسافر لائبیریا سے قطر ایئرویز کے ذریعے کراچی ایئرپورٹ پہنچا تھا، جہاں سے اس کو پیر کی صبح جناح ہپستال منتقل کیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس مسافر کو 103 سینٹی گریڈ بخار ہے اور اسے ہپستال میں آئسولیشن وائرڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کے مزید ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ہارون نامی یہ مسافر کراچی کا رہائشی ہے اور لائیبریا میں کام کرتا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے یاد نہیں ہے کہ اس کاکسی ایبولا کے مریض سے دور دور کا بھی واسطہ پڑا ہو۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال زیادہ تشویش کا شکار نہیں ہیں، لیکن انھوں نے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کر لی ہیں۔ایبولا کا مشتبہ مریض پیر کی صبح ایئر پورٹ پر اترا تھاادارہ اسلام آباد سے اپنی ایک ٹیم کراچی بھیج رہا ہے۔ادارے کا کہنا ہے کہ انھوں نے ابھی تک مریض سے خون کا نمونہ نہیں لیا اور یہ صرف اسی وقت کیا جائے گا جب تمام حفاظتی تدابیر مکمل ہو جائیں۔ اس کے بعد نمونہ امریکی شہر اٹلانٹا بھیجا جائے گا جس میں تین چار دن لگیں گے۔ایبولا انسانوں میں خون کے براہ راست تعلق، جسمانی رطوبتوں اور بالواسطہ طور پر آلودہ فضا سے پھیلتی ہے۔اس بیماری کا مرکز مغربی افریقہ ہے۔ صحت کے عالمی ادارے ڈبلیوایچ او کا کہنا ہے کہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے روایتی طریقے جن میں متاثرہ شخص کے ساتھ جسمانی تعلق سے پرہیز یا حفاظتی آلات پہننا شامل ہیں، لائبیریا میں کارآمد ثابت نہیں ہو رہے۔فی الحال معلوم نہیں ہے کہ جانچ کی رپورٹ کتنے دنوں میں آئے گیڈبلیو ایچ او پاکستان حکومت کو ایبولا سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کر چکا ہے، جس کے بعد پاکستان کے صدر ممنون حسین نے چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریوں کو خط لکھ کر ملک کے تمام انٹری پوائنٹس پر حفاظتی اقدامات سخت کرنے کا حکم دیا ہے اور ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور بارڈر انٹری پوائنٹس پر سکریننگ اور قرنطینہ کا نظام لگانے کی بھی ہدایت کی ہے۔صدر مملکت نے ہدایت کی ہے کہ تمام صوبے ایبولا وائرس کی ادویات وافر مقدار میں سٹاک کریں اور ہسپتالوں میں ایبولا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے وارڈ بھی مخصوص کیے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…