اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

برطانیہ کا ہر بازار میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔ مگر کیوں؟

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

لندن: بلیک فرائیڈے کے موقع پر روائتی طور پر اشیائے ضروریات پر دی جانے والی رعایت کو حاصل کرنے کے لئے برطانوی شہری دکانوں اوراسٹوروں  پرایسے ٹوٹے کہ وہ میدان جنگ کے مناظرپیش کرنے لگے۔

ایک دوسرے کو دھکے دینے اور جھگڑنے کے مناظر پورے ملک کی ہر اس دکان اور بازار میں نظر آرہے تھے جہاں سیل کا لفظ نظر آرہا تھا، ہر شخص اپنی پسندیدہ اور ضرورت کی اشیا خریدنے کے لیے دکان میں پہلے داخل ہوجانا چاہتا تھا بس پھر کیا تھا جس کے پاس طاقت زیادہ تھی اس نے کمزور کو دبا لیا ااور ایک ہی دھکے میں اسے گراکر فاتحانہ انداز میں  خریداری میں مصروف ہوگیا یہ پرواہ کئے بغیر کے گرنے والے کا کیا ہوا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ آدھی رات میں جب اسٹور کھلے تو اچانک لوگوں نے دکانوں پر دھاوا بول دیا جسے کنٹرول کرنے کے لیے دکانداروں نے مناسب انتظامات نہیں کر رکھے تھے، ہنگامہ آرائی کرنے کے الزام میں  مانچسٹر سے 3 افراد کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔

پولیس  کا کہنا تھا کہ لوگوں کا رش توقع کے مطابق تھا تاہم دکانداروں نے مناسب سیکورٹی اسٹاف کے انتظامات نہیں کئے۔ برطانیہ کے ایک بڑے ریٹیلراسٹور پر اتنا رش تھا کہ لوگ ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے اور گھونسوں اور مکوں کی بارش کردی جس کے بعد مجبوراً پولیس کو اس کے کئی اسٹور بند کرنے پڑے۔ اس دوران ایک خاتون اپنی کلائی ہی تڑوا بیٹھی جب کہ ایک صاحب جو وہیل چیئرپر تھے ان کے سر پر ٹی وی گر گیا، بعض اسٹورز کی الماریوں اور ڈسپلے پر لوگ چھلانگیں مارتے ہوئے گھس گئے اور آؤ دیکھا نہ تاؤ جو چیز سامنے آئی خریدنے کے لیے اٹھا لی، کئی اشیا توہوا میں اڑتی دکھائی دیں اور کچھ لوگوں کی کھینچا تانی میں ٹوٹ گئیں، ایک اسٹور کی اسٹاف خاتون تو بیچاری دھکے کھانے کے بعد رو پڑی اور کہنے پر مجبور ہوگئی کہ اس نے اس سے پہلے کبھی اس طرح کی بد بدتمیزی نہیں دیکھی۔

برطانوی شہریوں کی یہ بے صبری اور بد تمیزی دیکھ کر نہیں لگ رہا تھا کہ یہ کوئی پڑھی لکھی قوم ہو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ لوگ  گرتی معیشت اور مہنگائی کے ہاتھوں اتنے مجبور ہوچکے ہیں  وہ کوئی بھی ڈسکاؤنٹ حاصل کرنے کے موقع کو گنوانا نہیں چاہتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…