اسلام آباد۔۔۔۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکا کی خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اس کے نتائج عوام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ امریکا گزشتہ 12 سال سے مشرق وسطیٰ کے معاملات میں مداخلت کر رہا ہے اور اس کی مداخلت نے عراق اور شام کو تقریبا منشرکر کے رکھ دیا ہے، داعش کو شام کی حکومت کے خلاف لڑنے کے لئے بنایا گیا تھا لیکن آج داعش جو کچھ کر رہی ہے پوری دنیا دانتوں میں انگلیاں چبا کر اسے دیکھ رہی ہے، یہ لوگ مذہب کا نام استعمال کر کے اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں، ہمارا مذہب کو پیار، امن اور آتشی والا مذہب ہے۔ لیبا بھی امریکی مداخلت کے باعث ریاست کی تعریف پر پوری نہیں اترتا۔ امریکا کی خارجہ پالیسی اس خطے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے اور اس کی ناکامی کے نتائج خطے کی عوام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں اور نہ جانے کب تک بھگتنا پڑیں گے۔ مشرقی وسطی میں امریکا کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کی سب سے بڑی مثال ان کے وزیر دفاع چک ہیگل کا عہدے سے استعفیٰ دینا ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنے قومی مفادات کو سب چیزوں پر فوقیت دے کر انہیں آگے بڑھانا چاہیئے، ہماری تمام تر توجہ قومی مقاصد کے لئے ہونی چاہیئے اور میرے نزدیک ہمارے قومی مقاصد ہمسایہ ممالک اور بین الاقوامی برادری سے متصادم نہیں ہیں، جہاں کہیں تصادم ہوا تو ان مقاصد پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کو افغانستان میں امن اور خطے میں میں خوشحالی کے لئے بھرپور کردار ادا کرنا چاہیئے، ہم نے افغان حکومت کو واضح طور پر کہا ہے کہ ہماری طرف سے قطعی طور پر کوئی مداخلت ہو رہی ہے اور نہ مستقبل میں ہو گی لیکن افغان بھائیوں کو اگر امن کے لئے ہماری ضرورت ہوگی تو ہم ہروقت حاضر ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لئے وزیراعظم نواز شریف نے حکومت سنبھالنے کے بعد کہا کہ ہم برصغیر میں اور سرحدوں کے دونوں اطراف امن اور خوشحالی چاہتے ہیں لیکن پچھلے چند ماہ سے ہماری اس خواہش کو شاید غلط سمجھا گیا ہے اور اس وقت سرحد پر جو سلسلہ چل رہا ہے و ہ برصغیر میں امن کے لئے خوش آئند نہیں ہے، ہم آج بھی امن چاہتے ہیں لیکن ہم امن عزت اور وقار کے ساتھ چاہتے ہیں، اگر کوئی ہماری امن کی خواہش کو کمزوری سے تشبیہ دے تو ان کی غلط فہمی ہو گی، ہمارے جو بھی مسائل ہیں وہ امن اور مذاکرات کے ذریعے سے حل ہو سکتے ہیں اور ہمیں یہی راستہ اپنانا چاہیئے۔ روس اور چین ہمارے خطے کی دو بڑی طاقتیں ہیں انہیں بھی اس خطے کے مسائل حل کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے، ہمیں اس خطے کے مسائل کا حل اس خطے میں ہی ڈھونڈنا چاہیئے، سمندر پار سے ہمارے مسائل کا حل نہیں آنا چاہیئے۔
امریکہ کی ناکام خارجہ پالیسی کے نتائج عوام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں، خواجہ آصف
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق فیصلہ کرلیاگیا
-
یکم جولائی سے کن جائیدادوں کی خرید وفروخت نہیں ہو سکے گی؟ اہم خبر
-
ریو سیکریٹو
-
گھر داماد نے 4 سال تعلقات کے بعد بھاگ کر ساس سے کورٹ میرج کرلی
-
قیمتی الیکٹرک بائیک اب ہر شہری کی دسترس میں! حکومت کا بڑا فیصلہ
-
رواں سال مون سون بارشیں کم ہوں گی یا زیادہ؟ محکمہ موسمیات نے خبردار کردیا
-
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کتنا اضافہ ہو گا؟ پنجاب حکومت نےمالی سال 27-2026کےبجٹ خدوخال کوحتمی ش...
-
بجلی سستی کر دی گئی، نوٹیفکیشن جاری
-
لاہور: بینک میں 5 کروڑ جمع کرانیوالے شہری سے 2 بینک ملازمین رقم لیکر فرار
-
لڑکی کو بیہوشی کی حالت میں نجی اسپتال چھوڑ کر فرار ہونیوالے تینوں ملزمان گرفتار
-
ڈاکٹر ماہ نور کو بچانے والے عبدالرزاق نے واقعے کی تفصیلات بیان کردیں
-
پی ٹی آئی ناراض اراکین اسمبلی کا گروپ کھل کر سامنے آ گیا
-
لٹن داس دنیا بھر میں رضوان کو بدنام کرنے لگے
-
20 لاکھ 88 ہزار 800 روپے کے ای چالان ریکارڈ ہولڈر موٹر سائیکل سوار پکڑا گیا



















































