اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

شارجہ میں شیر پالنے والے کو ایک لاکھ درہم جرمانہ بھرنا ہو گا

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

شارجہ۔۔۔عرب ملک متحدہ عرب امارات کی ریاست شارجہ میں اطلاعات کے مطابق حکام نے عوام کے ’خطرناک جانور‘ پالنے اور مکانات کی بالکنیوں میں سامان رکھنے یا وہاں کپڑے لٹکانے پر پابندی لگا دی ہے۔شارجہ کے حکمران محمد القسیمی نے حال ہی میں ایک حکم جاری کیا ہے جس کے تحت عوام کے ’شکاری جانوروں‘ کو بطور پالتو جانور رکھنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔سرکاری خبر رساں ادارے وام کے مطابق اس حکم کے تحت یہ خطرناک جانور چاہے جس بھی مقصد کے تحت خریدے گئے ہوں انھیں گھروں یا فارم ہاؤس پر نہیں رکھا جا سکے گا۔حکام کے مطابق حکم عدولی کرنے والے افراد کو ایک لاکھ درہم جرمانہ کیا جائے گا۔متحدہ عرب امارات میں امرا کے شیر، چیتے اور تیندوے پالنے کا رواج ہے۔2013 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق یہ شکاری جانور متحدہ عرب امارات میں عام دستیاب ہیں اور ان کی قیمت 50 ہزار درہم تک ہو سکتی ہے۔متحدہ عرب امارات میں محنت مزدوری کے لیے دیگر ممالک سے آنے والے افراد کی بڑی تعداد چھوٹے چھوٹے فلیٹوں میں مقیم ہے۔ادھر مقامی اخبار گلف نیوز کے مطابق شارجہ میں ایسے افراد کو جرمانوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جن کی بالکنی میں یا تو کپڑے سوکھ رہے تھے یا پھر وہاں سیٹیلائٹ ڈش نصب کی گئی تھیں۔دو ہفتے تک جاری رہنے والی مہم کے دوران متعدد افراد کو پانچ سو درہم جرمانہ کیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد جرمانے کر کے رقم اکٹھی کرنا نہیں بلکہ یہ شہر کی خوبصورتی برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔تاہم کچھ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دھوپ میں کپڑے سکھانے سے نہ صرف ڈرائر چلانے کی صورت میں خرچ ہونے والی بجلی کی بچت ہوتی ہے بلکہ ماحول بھی صاف رہتا ہے۔خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات میں محنت مزدوری کے لیے دیگر ممالک سے آنے والے افراد کی بڑی تعداد چھوٹے چھوٹے فلیٹوں میں مقیم ہے اور ان عمارتوں کی بالکنیوں پر لگی الگنیاں کپڑوں سے بھری رہتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…