بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں عورت ذات کی اتنی بے توقیری۔۔کلک کر کے جانئے

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

نئی دہلی۔۔۔۔۔بھارتی دارالحکومت دہلی سے ملحق ریاست ہریانہ کے آس محمد نے اپنی بیوی کو ایک دلال کے توسط سے تقریباً ساڑھے تین ہزار روپے میں خریدا تھا۔بھارت میں یہ رقم ایک گائے کی قیمت سے بھی کم ہے لیکن انھیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔آس محمد کہتے ہیں: ’یہ بات درست ہے کہ میری بیوی کی قیمت ایک گائے سے بھی کم ہے لیکن اگر میرے بچوں کے لیے دلہن نہیں ملی تو مجھے پھر سے ایسا ہی کرنا پڑے گا۔‘آٹھ بچوں کی ماں اس خاتون کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی غلاموں جیسی ہے: ’جب میں 12 سال کی تھی تب میرے شوہر مجھے یہاں لے آئے تھے۔ وہ مجھے پیٹتے رہے ہیں، لیکن میں کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی کیونکہ میں کہیں نہیں جا سکتی تھی۔‘بھارت کے کچھ حصوں میں دلہن خریدنے کی رسم اب بھی ہے اور ہریانہ میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔خواتین کے متعلق قدیم زمانے سے چلے آنے والے تعصبات اور الٹراساؤنڈ کے ذریعے رحم مادر میں ہی بچے کے جنس کی جانچ کی جدید ٹیکنالوجی کے سبب بچیوں کو پیدائش سے قبل ہی اسقاطِ حمل کے ذریعے پیدا ہونے سے باز رکھنا ممکن ہو گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملک کے کچھ حصوں میں خواتین کا تناسب مردوں کے مقابلے خاطر خواہ کم ہے۔جنسی تعصبات کے بیج اتنے گہرے ہیں کہ پیدائش سے قبل بھی لڑکے اور لڑکیوں میں امتیاز برتا جاتا ہے۔بہتر زندگی کی امید میں ہزاروں خواتین اور لڑکیوں کو دھوکہ دیا جاتا ہے اور انھیں شادی کے لیے بیچ دیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی تو انھیں اغوا بھی کر لیا جاتا ہے۔دلال اس طرح پیسہ بنا لیتے ہیں لیکن متاثرہ خواتین کو تا حیات تشدد اور جنسی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک دلال نے بتایا: ’میں نے خود اپنے لیے ایک دوسرے دلال کے ذریعے بیوی خریدی اور اس کے بعد میں نے اپنے خاندان کے گزر بسر کے لیے یہی کام شروع کر دیا۔‘اس دلال کا خیال ہے کہ وہ ایک اچھا کام کر رہا ہے اور اس سے دونوں فریقوں کا بھلا ہوتا ہے۔ایک سڑک کے کنارے جھوپڑی بنا کر اپنے بچوں کے ساتھ رہنے والی روشنی کہتی ہیں کہ ان کے شوہر کی موت کے بعد انھیں گھر سے نکال دیا گیا۔شوہر کے بھائی نے زبردستی شادی کرنی چاہی لیکن روشنی نے انکار کر دیا۔
یہاں جنسی تعصبات کے بیج اتنے گہرے ہیں کہ پیدائش سے قبل بھی لڑکے اور لڑکیوں میں امتیاز برتا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…