لاہور۔۔۔۔۔ سینٹر ل ایشیا، ساؤتھ ایشیاالیکٹرک سٹی ٹرانسمشن اینڈٹریڈ پروجیکٹ( کاسا 1000) میں شامل پاکستان سمیت چاروں ممالک کے درمیان بیشترمعاملات افہام وتفہیم سے طے پاگئے، تحریری شکل دینے کے لیے چاروں ممالک کے اعلیٰ سرکاری حکام کا 5روزہ مشترکہ اجلاس 29نومبر کوترکی کے دارالحکومت استنبول میں طلب کرلیا گیاجس کے بعد 3دسمبر کو حکومتی شخصیات اس کی باضابطہ منظوری دیں گی۔ذرائع کے مطابق تاجکستان، کرغستان، افغانستان اورپاکستان کے درمیان کاسا1000منصوبے کی تکمیل کے لیے ورلڈبینک سمیت دیگرمالیاتی اداروں کی طرف سے فنڈزکی فراہمی سے مالی مشکلات دور ہوگئی ہیں۔ ورلڈبینک کی طرف سے اس منصوبے کے لیے 500ملین ڈالرسے زائدکے فنڈزمختص کردیے گئے ہیں جب کہ اسلامی ترقیاتی بینک سمیت دیگرمالیاتی اداروں نے بھی فنڈزکے اجراکے لیے مکمل یقین دہانی کرادی ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظرافغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں سے ترسیلی لائن گزارنے کے لیے بھی سروے مکمل کرلیا گیاجس کے بعداس منصوبے میں عملی پیشرفت اور دیگرنقائص دورکرنے کے لیے چاروں ممالک اجلاس کے آخری روزمشترکہ طورپر اس منصوبے پرعملی آغازکا اہم اعلان کریں گے۔ذرائع کے مطابق بنیادی طورپر یہ ایک مہنگاسیاسی منصوبہ ہے جوامریکی پالیسی کے مطابق ورلڈبینک سمیت دیگرمالیاتی اداروں کی معاونت سے شروع کیاجا رہاہے جس کامقصد پاکستان کوایران سے بجلی لینے سے روکنا مقصود ہے۔ ذرائع کے مطابق افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں سے ترسیلی لائن گزارنے کے لیے ایک سروے بھی کرایاگیا ہے اوراس میں قبائلیوں سے ان کی رائے کے بارے میںآگاہی حاصل کی گئی ہے جن کاکہنا ہے کہ انھیں پانی، بجلی اورتعلیمی اداروں سمیت دیگرترقیاتی منصوبے چاہئیں جس کے بعد پاکستانی حکومت نے فیصلہ کیاہے کہ ٹرانسمشن لائن گزارنے کی مدمیں قبائلیوں کو منصوبے کے ذریعے ٹرانزٹ فیس بھی دی جائے گی جبکہ کمیونٹی سپورٹ پروگرام کے تحت قبائلیوں کو سولرپینلز کے ذریعے بجلی سمیت دیگرسہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی جن کاحصول اس منصوبے کے ذریعے ممکن ہوسکے گا۔ذرائع کے مطابق کاسا1000 منصوبے کے تحت افغانستان اورپاکستان کرغیزستان اورتاجکستان سے 1000 ہزار میگاواٹ ہائیڈل بجلی حاصل کرسکیں جس کے حصول کے لیے ترسیلی لائن افغانستان کے راستے پاکستان پہنچے گی جوتقریباً 750کلومیٹر طویل ہے جوافغانستان کے راستے وزیرستان، پشاورسے ہوتی ہوئی نیشنل گرڈتک لائی جائیگی۔ اس منصوبے کے تحت ابتدائی طورپر 400 میگاواٹ بجلی افغانستان جبکہ 600میگاواٹ پاکستان کے حصے میںآئے گی۔ ذرائع نے مزیدبتایا کہ اس ترسیلی لائن کے ذریعے 1000میگاواٹ کے علاوہ مزیددرآمد کے حوالے سے دوسرے فیزپر بھی غورشروع کردیا گیاہے اوریہ معاملات بھی زیرغور ہیں کہ پاکستان بجلی کی پیداوارمیں خودکفیل ہونے کے بعداس ترسیلی لائن کے ذریعے بجلی پڑوسی ممالک کوفروخت بھی کرسکے گا۔ ذمے دارذرائع نے بتایاکہ منصوبے پرمجموعی طورپر ایک ارب ڈالرکا تخمینہ لگایاگیا
کاسا 1000منصوبے کے لیے فنڈزکی فراہمی کا مسئلہ حل
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اسکولوں میں چھٹی کا اعلان کردیا گیا
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)
-
طلبہ کےلئے خوشخبری،ہفتہ وار دو چھٹیوں کا اعلان
-
کراچی؛ فلیٹ سے ڈاکٹر، اسکی بیوی اور 3 بچوں کی لاشیں برآمد، ابتدائی تفتیش میں اہم انکشاف
-
حکومت کی ایک سال کے لیے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کی تجویز
-
حکومت کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا اعلان
-
بھارت کے امیر ترین کھلاڑی ویرات کوہلی کی مالیاتی سلطنت کی تفصیلات سامنے آ گئیں
-
عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہو گیا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان
-
مردہ بچیوں کو قبر سے نکال کر زیادتی کرنیوالا ملزم گرفتار، خوفناک انکشافات
-
گھی اور کوکنگ آئل کی کم از کم ریٹیل قیمتیں مقرر کردی گئیں
-
iPhone 18 Pro Max کی پاکستان میں قیمت اور PTA ٹیکس سامنے آگیا
-
شہریوں کیلئے بڑی سہولت، پاسپورٹ بنوانا مزید آسان
-
خلیجی ملک کی شہریت منسوخ، سیکڑوں لوگ اب کس ملک کی شہریت لے رہےہیں؟
-
زلزلے کے جھٹکے،شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا



















































