اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

امریکہ چاند پر پہنچا تھا یا نہیں، کوئی اور بہت جلد ہے پہنچنی

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

لندن: سائنسدانوں کی جانب سے ایک بار پھر چاند پر قدم رکھنے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں جہاں برطانیہ نے بھی ایک ایسا ہی منصوبہ تشکیل دے دیا ہے جس کے تحت آئند 10 سال میں یورپی خلائی روبوٹ چاند پر قدم رکھ دے گا لیکن اس منصوبے کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں عام لوگ بھی اپنا کردار ادا کرسکیں گے۔

برطانوی سائنسدانوں کی جانب سے چاند پر قدم رکھنے کے اس نئے منصوبے کو لونر مشن ون کا نام دیا گیا ہے، اس مشن میں خلا باز نہیں بلکہ ایک روبوٹ تنہا چاند کی سطح پر قدم جمائے گا اور اس مشن کے ذریعے اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ چاند کی سطح کے جنوبی قطب پرانسان کے قیام کرنے کا عمل ممکن ہوسکتا ہے یا نہیں۔

برطانوی سائنسدانوں کی قیادت میں یورپی کنسوشیم  کی جانب سے تیار کردہ اس منصوبے کی فنڈنگ یورپ بھر کے مشہورسائنسدان اور سائنسی تنظیمیں کر رہی ہیں جن میں پروفیسر برائن کوکس، مشہور خلا باز رائل لارڈ ریز اور پروفیسر مونیکا گریڈی شامل ہیں جبکہ اس منصوبے پر  50 کروڑ پاونڈز کا خرچہ آئے گا۔

چاند مشن کے سربراہ ڈیوڈ آئرن کا کہنا ہے کہ صرف حکومت اتنے مہنگے مشن کا خرچہ نہیں اٹھا سکتی تھی اس لیے اس مشن میں اہم شخصیات سے لے کر عام لوگوں تک سب ہی سے مدد لی گئی ہے اوراس میں چند رقم جمع کرانے والوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ مشن کی ٹیم کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں انہیں 6 لاکھ پاؤنڈز مل جائیں گے جو پروجیکٹ کی ابتدا کے لیے کافی ہیں جبکہ آئندہ چار سال میں عوام سے بھی براہ راست فنڈنگ لی جائے گی اور جو لوگ فنڈ دیں گے انہیں لینڈر کی ڈیجیٹل اسٹوریج میں جگہ مل سکے گی جس کے بعد وہ خلائی روبوٹ پر نہ صرف اپنے پیغامات بھیج سکیں گے بلکہ تصاویر، ویڈیوز او میوزک بھی ارسال کرسکیں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فنڈ دینے والے افراد نشانی کے طور پر اپنے بال بھی خلا میں روانہ کرسکیں گے جو وہاں ایک ارب سال تک محفوظ رہیں گے جبکہ چاند پر ایک مختصر پیغام بھیجنے کی قیمت 10 پاونڈز، مختصر ویڈیو 200 ڈالر جبکہ بال بھیجنے کی قیمت 50 پاونڈز ہے۔ مشن کے سربراہ آئرن کا کہنا ہے کہ یہ واحد مشن ہے جس میں لوگ اسے صرف دیکھیں گے نہیں بلکہ براہ راست اس میں شامل ہوں گے اور اس مشن سے متعلق اہم فیصلوں میں بھی ان لوگوں کو شامل کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…