منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی میں ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر کے منصوبے پر حکم امتناعی برقرار

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

کراچی۔۔۔سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر کے منصوبے پر حکم امتناعی برقرار رکھا ہے جبکہ درخواست گزاروں کے مطابق اگر قانونی لوازمات پورے ہوں تو انھیں تعمیر پر اعتراض نہیں ہو گا۔پروفیسر ہود بھائی، شرمین عبید چنائے، ڈاکٹر اے ایچ نیّر اور عارف بلگرامی نے کراچی میں چین کے تعاون سے بننے والے ایٹمی بجلی گھروں کے منصوبے کو ہائی کورٹ میں چیلینج کیا ہے۔سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقبول باقر اور جسٹس شاہنواز طارق پر مشتمل بینچ کے روبرو جمعرات کو اس درخواست کی سماعت ہوئی تو درخواست گزاروں کے وکیل حفیظ پیرزادہ نے دلائل دیے۔حفیظ پیرزادہ کا کہنا تھا اس منصوبے کی عوامی سماعت نہیں کی گئی اور نہ ہی ماحول کے تحفظ کے ادارے ’انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی‘ نے جائزہ لیا ہے، جبکہ دنیا میں جہاں بھی اس طرح کے منصوبے بنائے گئے ہیں وہاں یہ لوازمات پورے کیے جاتے ہیں۔سابق وزیر قانون کا موقف تھا کہ اگر ایٹمی کمیشن قانونی لوازمات پورے کر لے تو انھیں اس منصوبے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔عدالت نے مزید سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کر دی۔کراچی میں ’کینپ‘ نامی 80 میگا واٹ کا ایک جوہری بجلی گھر پہلے سے کام کر رہا ہے
اس سے پہلی سماعت پر پاکستان ایٹمی کمیشن نے جو تحریری جواب دائر کیا تھا اس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر پرانے ڈیزائن کے مطابق کی جا رہی ہے، اس سے انسانی آبادی کو کوئی خطرات لاحق نہیں۔تاہم درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ اے سی ٹی 1000 نامی جس ٹیکنالوجی سے کراچی میں بجلی گھر تعمیر کیا جا رہا ہے اس کا کہیں تجربہ نہیں کیا گیا ہے۔حکومت نے یہ بھی کہا تھا کہ ماحول کی آلودگی کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ اتھارٹی موجود ہے اور درخواست گزاروں کو اس سے رجوع کرنا چاہیے جبکہ تابکاری کے اثرات کی نگرانی نیوکلیئر اتھارٹی دیکھتی ہے، یہ اسی کا دائرہ اختیار ہے۔
منصوبے کی عوامی سماعت نہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے حکومت عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ قانون میں گنجائش موجود ہے کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کسی منصوبے کی سماعت نہ کرنے کی درخواست کی جا سکتی ہے، اور اگر کسی کو اس پر اعتراض ہے کہ متعلقہ اتھارٹی کے پاس اپیل کی جا سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…