منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

لنگور بھارتی صدر کی حفا ظت کریں گے

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

نئی دہلی ۔۔۔۔بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی سے تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہندوؤں کا ایک مقدس شہر متھرا ہے جہاں کے بندروں میں ایک عجیب شوق پایا جاتا ہے۔شہر کے بندر متھرا کی زیارت یا پوجا پاٹ کرنے کے لیے آنے والے افراد کے دھوپ سے بچنے والے چشموں کو چھین لیتے ہیں چاہے وہ عینک آنکھوں پر لگی ہو یا پھر جیب میں ہو۔ان بندروں کے اس رویے اور ان کی تعداد کو ذہن میں رکھتے ہوئے متھرا کی انتظامیہ نے بھارتی صدر پرنب مکھرجی کی حفاظت کے لیے 10 لنگوروں پر مشتمل ایک چھوٹی سی فوج تیار کی ہے۔صدر پرنب مکھرجی 16 نومبر کو ورنداون کے چندرودئے مندر کا سنگِ بنیاد کی تقریب کے لیے متھرا جا رہے ہیں۔سنگِ بنیاد کی تقریب کے بعد وہ بان ے بہاری مندر بھی جائیں گے جہاں بندروں کی دہشت سب سے زیادہ ہے۔متھرا کی سینیئر پولیس افسر منزل سینی نے بتایا ہے کہ صدر پرنب مکھرجی کا قافلہ جس راستے سے بھی گزرے گا اس پر یہ لنگور پورا دن تعینات رہیں گے۔

صدر پرنب مکھرجی 16 نومبر کو ورنداون کے چندرودئے مندر کا سنگِ بنیاد کی تقریب کے لیے متھرا جائیں گے
منزل سینی کے مطابق بھگوان کرشن کی جنم بھومی ٹرسٹ سے فی لنگور ایک ہزار روپے یومیہ کے حساب سے کرائے پر لیے گئے ہیں۔
یہ رقم قومی دیہی روز گار منصوبے کے مطابق 125 روپے یومیہ ملنے والی مزدوری سے کئی گنا زیادہ ہے۔
کرشن جنم بھومی ٹرسٹ کے سیکریٹری کپل شرما نے بتایا ’ان کے پاس صرف دو لنگور ہیں جو صدر کی سیکورٹی انتظامات کے لیے تعینات ہیں۔ ٹرسٹ ان لنگوروں کے لیے 14 ہزار روپے ماہانہ خرچ کرتا ہے۔ باقی آٹھ لنگور کہیں دوسری جگہ سے لائے گئے ہیں۔‘
ورنداون چندرودئے مندر کے رابطہ عامہ اور وی آئی پی مہمانوں کی خدمات کے محکمے کے انچارج نوین کہتے ہیں کہ اس مندر میں بندروں کا اتنا خوف نہیں ہے۔ ہیلی پیڈ سے مندر بس چند قدم کے فاصلے پر ہے۔
صدر کی آمد سے پہلے ان کے پورے روٹ کو پولیس، این ایس جی کمانڈوز، ایس پی جی اور فوج کے حوالے کر دیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…