اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

کیا کبھی کوئی مر جانے والا شخص بھی ایک دم ہوا ہے زندہ؟ مگر یہ معجزہ کیسے ہوا؟

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

وارسا: اگر زندگی کی سانسیں باقی ہوں تو مردہ قرار دیا جانے والا بھی زندگی کی طرف لوٹ آتا ہے۔ ایسا ہی کچھ ہوا پولینڈ میں ایک خاتون کےساتھ جسے اس کے فیملی ڈاکٹر نے مردہ قرار دے کر مردہ خانے بھیج دیا تاہم  کچھ دیر بعد اسے واپس زندہ دیکھ کر گھر والوں کی آنکھیں کھلی رہ گئیں۔

ہوا کچھ یوں کہ زندگی کی 91 بہاریں دیکھنے والی جانینا کولکووچ اچانک بے ہوش ہوگئیں اور انہیں فوراً ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا۔ ڈاکٹر نے کافی دیر معائنے کے بعد انہیں مردہ قرار دے دیا اور گھر والوں سے کہا کہ انہیں مردہ خانے بھیج دیا جائے۔ جانینا کو مردہ خانے بھیج کر خاندان والوں نے ان کی تدفین کی تیاریاں اور انتظامات شروع کردیئے تاہم تقریباً 11 گھنٹے بعد مردہ خانے میں کام کرنے والے کارکنوں نے محسوس کیا کہ جانینا کے جسم پر پہنائے گئے بیگ میں حرکت ہو رہی ہے جس کے بعد انہوں نے بیگ کھول کر دیکھا تو ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ خاتون زندہ سلامت زندگی کی سانسیں لے رہی ہیں جس کے بعد فوراً بعد ان کے گھر فون کیا گیا جب کہ گھر والے بھی یہ خبر سن کر حیرت زدہ رہ گئے۔

جانینا کی بھتیجی کا کہنا تھا کہ جب انہیں مردہ خانے سے فون آیا تو وہ ان کے زندہ ہونے کی خبر سن کر حیران رہ گئے۔ جانینا کے ساتھ کیا ہوا وہ نہیں جانتی لیکن اب وہ صحت مند ہیں لیکن جب وہ مردہ خانے سے گھر پہنچیں تو انہوں نے سردی لگنے کی شکایت کی جس پر انہیں سوپ اور کیک پیش کیا گیا جو انہوں نے خوب مزے لے کر کھایا۔ جانینا کو موت کا پروانہ جاری کرنے والے ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ وہ فی الحال ان کی زندگی کی طرف لوٹ آنے پر کچھ نہیں کہہ سکتے کیوں کہ وہ شدید صدمے میں ہیں کہ ایسا کیسے ممکن ہے۔

مردہ خانے کے ڈائریکٹر ہینریک کیمینچووچ کا کہنا تھا کہ انہوں نے مردہ خانے میں گزشتہ 30 سال کے دوران کبھی ایسا واقعہ رونما ہوتے نہیں دیکھا، وہ نہیں جانتے یہ کیسے ہوا۔ جانینا کے ایک پڑوسی نے تو یہ تک کہہ دیا کہ یہ کسی معجزہ سے کم نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…