منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عراق والی غلطی افغانستان میں نہیں دہرائیں گے ، امریکہ

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

واشنگٹن۔۔۔۔ امریکی آرمڈ سروسز کمیٹی کے رکن راب وٹمین کا کہنا ہے کہ ہم نے عراق میں مستحکم حکومت قائم کئے بغیر ملک چھوڑ کر غلطی کی تھی لیکن افغانستان میں ایسی کوئی غلطی نہیں دہرائیں گے جس سے مقامی حکومت حالات کنٹرول کرنے کی اہلیت کھو بیٹھے اور دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا لے۔امریکا کے سرکاری خبر رساں ادار ے کے مطابق راب وٹمین کا کہنا تھا کہ ہم نے عراق میں جو غلطی کی اس سے سبق سیکھا ہے اور افغانستان میں اپنی مؤثر فوجی موجودگی برقرار رکھیں گے، چاہتے ہیں کہ افغان حکومت کو زیادہ فعال بنائیں اور افغان سیکیورٹی اداروں کے پاس طالبان سے مقابلے کی قوت موجود ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکا کو مشرق وسطیٰ میں دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ کا تیزی سے ابھرنا اور افغانستان سے بین الاقوامی فوجی دستوں کی واپسی کے بعد کی صورت حال جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
نئی افغان حکومت کے ساتھ افغانستان سیکیورٹی معاہدے کے حوالے سے امریکی آرمڈ سروسز کمیٹی کے رکن کا کہنا تھا کہ افغان عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کچھ امریکی فوجی دستے ملک میں موجود رہیں گے، معاہدے کے مطابق امریکی اہلکاروں کو فوجی کارروائیوں کی بنیاد پر قائم مقدمات سے تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ افغانستان میں تعینات ایساف کمانڈر سے ملاقات کر کے اس بات کا بھی جائزہ لیں گے انہیں مستقبل میں کس قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، افغان صدر سے ملاقات کر کے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ وہ امریکا کے ساتھ تعلقات کو کس سطح پر دیکھنا چاہتے ہیں اور اپنے ملک میں امریکا کا کتنا عمل دخل چاہتے ہیں۔
راب وٹمین نے کہا کہ افغانستان کو اپنے محل وقوع، نسلی گروہوں میں بٹے ہونے اور دور افتادہ علاقوں تک رسائی آسان نہ ہونے کی وجہ سے اس ملک کو مضبوط سیکیورٹی اداروں، مؤثر حکومت اور بہتر انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب سویت فوجیں افغانستان سے گئیں تو ہم نے افغانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا اور ہمارا بہت سا اسلحہ بھی وہیں رہ گیا تھا جس کا افغان عسکری گروپوں نے فائدہ اٹھا کر خود کو فعال کیا اور ملک میں دہشت گردی کو فروغ دیا لیکن اب ہم سیکیورٹی کے سلسلے میں افغان فوج کی مدد کرنا چاہتے ہیں اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم وہاں موجود رہیں اور ایک مددگار کا کردار ادا کریں، ہم عراق کا اپنا تجربہ افغانستان میں نہیں دوہرائیں گے اور افغان فوج اور سیکیورٹی اداروں کو اس قابل بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے کہ وہ دہشت گردوں کے چیلنجز کا مؤثر جواب دے سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…