بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

کویت کے بے ریاست بدوؤں کو جزائر موروس کی شہریت ملے گی

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

کویت سٹی ۔۔۔۔کویتی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں رہائش پذیر ہزاروں بے ریاست بدوؤں کو براعظم افریقہ کے جزائر کوموروس کی شہریت دی جا سکتی ہے۔وزارتِ داخلہ کے سینیئر اہلکار نے ایک کویتی اخبار کو بتایا ہے کہ ’بدون‘ کہلائے جانے والے یہ افراد اگر یہ شہریت قبول کرتے ہیں تو انھیں کویت میں قیام کا پروانہ بھی مل سکتا ہے۔کویت میں ایک لاکھ سے زیادہ بدون آباد ہیں جو خود کو کویتی شہری مانتے ہیں لیکن حکومت ان میں سے بیشتر کا دعویٰ تسلیم نہیں کرتی اور انھیں ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد قرار دیتی ہے۔حالیہ چند برسوں میں ان افراد نے کویتی شہریت کے حصول کے لیے مظاہرے بھی کیے ہیں جن کے نتیجے میں سینکڑوں افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔کویتی حکومت کا کہنا ہے کہ صرف 34 ہزار بدون ایسے ہیں جو کویتی شہریت کے اہل ہیں۔اس کے علاوہ باقی بدو ایسے افراد ہیں جن کا تعلق دیگر عرب ممالک سے ہے اور وہ پانچ دہائی قبل کویت میں تیل کی دریافت کے بعد یہاں آئے یا پھر وہ ان افراد کی اگلی نسل ہیں۔کویت جس ملک کی شہریت کی پیشکش ان بدون کو کر رہا ہے وہ مشرقی افریقہ میں چھوٹے جزائر کا مجموعہ اور عرب لیگ کا رکن ملک کوموروس ہے۔کویتی حکومت کا کہنا ہے کہ صرف 34 ہزار بدون ایسے ہیں جو کویتی شہریت کے اہل ہیں۔کوموروس نوآبادیاتی دور میں فرانس کے زیرِ قبضہ رہا تھا اور یہ شدید سیاسی تشدد کے لیے بدنام رہا ہے۔کویتی وزارتِ داخلہ کے افسر میجر جنرل ماذن الجراہ نے مقامی اخبار الجریدہ کو بتایا کہ جو بدو کوموروس کی شہریت قبول کر لیں گے انھیں نہ صرف کویت میں رہنے کی اجازت ہوگی بلکہ مفت تعلیم اور صحتِ عامہ کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ شہریت دینے کا عمل آئندہ چند ماہ میں کویت میں کوموروس کا سفارت خانہ کھلنے کے فوراً بعد شروع ہوگا۔کویتی پارلیمان میں حقوقِ انسانی کی کمیٹی کے رکن فیصل فیصل الدویسن نے اس فیصلے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ’اگر یہ بات سچ ہے کہ یہ افراد دیگر عرب ممالک کے شہری ہیں تو انھیں ان کے آبائی علاقوں میں بھیجا جانا چاہیے نہ کہ انھیں کوموروس کی شہریت دی جائے۔‘
کوموروس کی حکومت کی جانب سے تاحال اس خبر پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…