ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے والوں کو کینیڈا کی امیگریشن نہں ملے گی

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

ٹورنٹو۔۔۔۔کینیڈا کے وزیر برائے امیگریشن کرس ایلیگزینڈر نے اعلان کیا ہے کہ حکومت ایک قانون پر کام کر رہی ہے جس کے تحت ان افراد کو شہریت نہیں دی جائے گی جنہوں نے ایک سے زیادہ بیویاں ہیں۔کینیڈا کے وزیر نے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کو ’وحشیانہ تہذیب‘ قرار دیا۔کینیڈا کی جانب سے یہ قانون متعارف کرائے جانے کے پیچھے گذشتہ ایک دہائی میں ’عزت کے نام پر قتل‘ کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہے۔ کینیڈا کے حکام کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سے آئی برادری میں زیادہ ہو رہے ہیں۔کرس ایلیگزینڈر نے کہا ’ہم قوانین میں سختی کینیڈا کے رہائشیوں اور کینیڈا میں آئے نئے افراد کو اس وحشیانہ تہزیب سے محفوظ رکھنے کے لیے کر رہے ہیں۔‘ان کا مزید کہنا تھا ’ہم کینیڈا میں مقیم افراد اور وہ افراد جو کینیڈا میں رہائش اختیار کرنے کے خواہش مند ہیں ان کو ایک واضح پیغام دینا چاہتے ہیں ہم ایسی تہذیبی روایات کو بالکل برداشت نہیں کریں گے جو انسانی حقوق کے منافی ہوں۔‘
اس نئے مجوزہ قانون کے تحت زبردست کی شادیوں پر بھی پابندیاں ہوں گی اور شادی کی سب سے کم عمر کو 16 سال رکھا گیا ہے۔مجوزی قانون میں ’عزت کے نام پر قتل‘ اور بیویوں کے قتل کے حوالے سے دفاع میں اختیار کیے گئے موقف کو بھی مزید سخت کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ مئی میں کینیڈا کی عدالت نے ایک لڑکی کی والدہ اور ایک رشتہ دار کو لڑکی کے قتل میں بھارت بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ لڑکی کی والدہ اور رشتہ دار نے اس لڑکی کو 14 سال قبل بھارت میں ایک رکشہ ڈرائیور سے شادی کرنے پر قتل کردیا تھا۔
اسی طرح 2010 میں پاکستان سے کینیڈا میں رہائش اختیار کرنے والے ایک خاندان کو ’عزت کے نام پر قتل‘ کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ بھائی اور والد نے 16 برس کی لڑکی کو حجاب نہ کرنے پر قتل کر دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…