پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

شہری امریکہ کے حوالے کرنے پر مشرف کے خلاف کارروائی کی جائے‘ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔ امریکہ کی گوانتامو بے جیل میں قید ایک پاکستانی کے اہلِ خانہ نے سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی ہے۔اس پٹیشن میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ حکومتِ پاکستان ویانا کنونشن کے تحت احمد ربانی تک رسائی حاصل کرے اور ان کے وکیل کے لیے بھی ان تک رسائی کے لیے انتظامات کرے تاکہ ان کی فوری رہائی کے انتظامات کیے جا سکیں۔پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان سابق صدر جنرل پرویز مشرف اور ان تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے جو پاکستانی شہری احمد ربانی پر تشدد کرنے اور انھیں غیر قانونی طور پر امریکہ کے حوالے کرنے میں ملوث ہیں۔اس پٹیشن کو دائر کرنے میں احمد ربانی کے خاندان کی مدد پاکستان میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم فاؤنڈیشن فار فنڈامینٹل رائٹس کر رہی ہے۔اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے وکیل شہزاد اکبر اس کیس کی پیروی کر رہے ہیں۔شہزاد اکبر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا یہ پہلی بار ہے کہ گوانتانامو میں قید فرد کے اہلِ خانہ نے اس وقت کے حکمران کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست دائر کی ہے۔شہزاد اکبر کے مطابق پاکستانی شہری احمد ربانی کو مشرف دور میں غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا تھا۔’جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اپنی کتاب ’ان دا لائن آف فائر‘ میں یہ تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے چھ سو نوے کے قریب پاکستانی شہری امریکہ کے حوالے کیے۔‘اس سوال کے جواب میں کہ احمد ربانی کو گرفتار کرنے کی وجہ کیا تھی، شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ’عدالت کے سامنے اب جو کیس لایا گیا ہے اس میں سب سے بڑا مسئلہ یہی بیان کیا گیا ہے کہ آج تک احمد ربانی کو گوانتاناموبے جیل میں رکھا گیا ہے جہاں ان پر تشدد بھی کیا جاتا ہے مگر آج تک ان پر نہ تو کسی جرم کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ نہ ہی یہ بتایا جا رہا ہے کہ کس جرم میں انہیں قید کیا گیا ہے اور نہ ہی احمد ربانی کو کسی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ ان پر تشدد بھی کیا جاتا ہے مگر آج تک ان پر نہ تو کسی جرم کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ نہ ہی یہ بتایا جا رہا ہے کہ کس جرم میں انہیں قید کیا گیا ہے اور نہ ہی احمد ربانی کو

فنڈامینٹل رائٹس تنظیم کی جانب سے شروع کی جانے والی قانونی چارہ جوئی کی تفصیل بتاتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ برطانیہ میں قائم ریپریو تنظیم کے وکیل کلائیو سٹیفورڈ نے گوانتانامو بے میں جا کر احمد ربانی سے ملاقات کی اور ان کا بیان قلمبند کیا ہے۔ ’بعد ازاں احمد ربانی کی اہلیہ، بیٹا جواد اور بہنوئی شفیع نے فنڈامینٹل رائٹس تنظیم سے رابطہ کیا تاکہ احمد ربانی کی رہائی کے لیے انتظامات کیے جا سکیں۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…