جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

بلوچستان حکومت ریکوڈک منصوبے کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ نہیں ، ڈاکٹر ثمر مبارک مند

datetime 27  اکتوبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔بلوچستان حکومت کی طرف سے ریکوڈک منصوبے کو مسلسل نظرانداز کیے جانے پر منصوبے کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے چیئرمین نیب اور کور کمانڈر کوئٹہ کو خطوط لکھ دیے ہیں۔مصدقہ ذرائع کے مطابق خط میں اس تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت اس منصوبے کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ نہیں ہے اور اس نے پروجیکٹ ڈائریکٹر سمیت اہم افسران کے کنٹریکٹ منسوخ ہونے پر ان کی جگہ کوئی تعیناتی نہیں کی جبکہ رواں مالی سال کے بجٹ میں بھی منصوبے کیلیے درکار فنڈز نہیں رکھے گئے جس سے نہ صرف سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہو رہی ہے بلکہ عالمی ثالثی عدالت میں بھی ہمارا مقدمہ کمزور ہو رہا ہے حالانکہ ہم گزشتہ سال بین الاقوامی عدالت انصاف میں بھی یہ مقدمہ جیت چکے ہیں۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے ٹیتھیان کاپر کمپنی کے مقابلے میں منصوبے پرکم لاگت میں زیادہ علاقے پر کان کنی کی۔ انھوں نے آٹھ اسکوائرکلو میٹرکے رقبے پر60 ملین روپے کی لاگت سے کان کنی کی جبکہ ان کے مقابلے میں ٹی سی سی نے3 کلومیٹر کیلیے250ملین ڈالر مانگ لیے۔ بعدازاں بین الاقوامی بولی کے بعد یہی کمپنی اسی رقبے کیلیے اب14ملین ڈالر پر آمادہ ہو گئی ہے۔ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے خط میں کہا ہے کہ انھوں نے28مئی کو وزیراعلیٰ بلوچستان کو خط بھی لکھا لیکن تاحال اس کا کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔ دو مرتبہ صوبائی حکومت سے اس منصوبے کیلیے 14ارب روپے مانگے لیکن اب تک کوئی جواب نہیں ا?یا۔ اگر صوبائی حکومت اس اہم منصوبے میں سنجیدہ نہیں تو پھر اسے سرے سے ختم ہی کر دے لیکن نہ تو حکومت اس حوالے سے کوئی نوٹیفکیشن جاری کر رہی ہے اور نہ ہی کام کو آگے بڑھا رہی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…