اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

بلوچستان حکومت ریکوڈک منصوبے کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ نہیں ، ڈاکٹر ثمر مبارک مند

datetime 27  اکتوبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔بلوچستان حکومت کی طرف سے ریکوڈک منصوبے کو مسلسل نظرانداز کیے جانے پر منصوبے کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے چیئرمین نیب اور کور کمانڈر کوئٹہ کو خطوط لکھ دیے ہیں۔مصدقہ ذرائع کے مطابق خط میں اس تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت اس منصوبے کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ نہیں ہے اور اس نے پروجیکٹ ڈائریکٹر سمیت اہم افسران کے کنٹریکٹ منسوخ ہونے پر ان کی جگہ کوئی تعیناتی نہیں کی جبکہ رواں مالی سال کے بجٹ میں بھی منصوبے کیلیے درکار فنڈز نہیں رکھے گئے جس سے نہ صرف سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہو رہی ہے بلکہ عالمی ثالثی عدالت میں بھی ہمارا مقدمہ کمزور ہو رہا ہے حالانکہ ہم گزشتہ سال بین الاقوامی عدالت انصاف میں بھی یہ مقدمہ جیت چکے ہیں۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے ٹیتھیان کاپر کمپنی کے مقابلے میں منصوبے پرکم لاگت میں زیادہ علاقے پر کان کنی کی۔ انھوں نے آٹھ اسکوائرکلو میٹرکے رقبے پر60 ملین روپے کی لاگت سے کان کنی کی جبکہ ان کے مقابلے میں ٹی سی سی نے3 کلومیٹر کیلیے250ملین ڈالر مانگ لیے۔ بعدازاں بین الاقوامی بولی کے بعد یہی کمپنی اسی رقبے کیلیے اب14ملین ڈالر پر آمادہ ہو گئی ہے۔ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے خط میں کہا ہے کہ انھوں نے28مئی کو وزیراعلیٰ بلوچستان کو خط بھی لکھا لیکن تاحال اس کا کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔ دو مرتبہ صوبائی حکومت سے اس منصوبے کیلیے 14ارب روپے مانگے لیکن اب تک کوئی جواب نہیں ا?یا۔ اگر صوبائی حکومت اس اہم منصوبے میں سنجیدہ نہیں تو پھر اسے سرے سے ختم ہی کر دے لیکن نہ تو حکومت اس حوالے سے کوئی نوٹیفکیشن جاری کر رہی ہے اور نہ ہی کام کو آگے بڑھا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…