جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

مولانا فضل الرحمان خود کش حملے میں بال بال بچ گئے

datetime 23  اکتوبر‬‮  2014 |

کوئٹہ۔۔۔۔۔۔۔کوئٹہ میں جمعیت علمائے اسلام ف کے  رہنما  مولانا فضل الرحمان  خود کش حملے مےں بال بال بچ گئے۔ مولانا فضل الرحمان مفتی محمود کانفرنس مےں     تقریر ختم کرکے جیسے ہی جلسہ گاہ سے نکل کر اپنی گاڑی میں بیٹھے اچانک زوردار دھماکا ہوگیا جس سے 3 افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ دھماکے سے جلسہ گاہ اور اس کے اطراف میں بھگڈر اور ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس سے عمارتوں اور قریب کھڑی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دہشتگردی واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو کا عملہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور بم ڈسپوزل سکواڈ جائے حادثہ پر پہنچ گیا۔ امدادی ٹیموں نے ایمبیولینسوں کے ذریعے زخمی افراد کو ہسپتال منتقل کیا جہاں انھیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔  اس موقع پر  گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ دہشتگرد انھیں نشانہ بنانا چاہتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے محفوظ رکھا جس پر میں اس کا شکر گزار ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے سے میری گاڑی مکمل تباہ ہو گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ دھماکا خود کش تھا لیکن میں ابھی اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ مجھ پر یہ حملہ کس نے کروایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی میں گاڑی میں بیٹھا دھماکا ہوگیا۔ بُلٹ پروف گاڑی میں تھا اس لئے بچ گیا۔ دھماکے سے میری گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…