لاہو۔۔۔۔۔پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہاہے کہ اسلام آباد میں جاری دھرنے کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ آج ہوجائے گا۔ یہ بات انہوں نے
اسلام آباد روانگی سے قبل لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی ۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ انقلاب مارچ اور دھرنے کی طویل جدو جہد کے بعد جب وہ فیصل آباد، جھنگ اور چنیوٹ گئے تو وہاں انہوں نے لوگوں میں انقلاب کے حوالے سے بیداری اور شعور دیکھا، ہر آنے والے دن ان کا یقین مزید پختہ ہوتا چلا گیا کہ دھرنے میں شریک افراد کی قربانی سے لوگوں میں موجودہ نظام کے خلاف جو نفرت پیدا ہوئی ہے وہ قابل دید ہے۔ لاہور کے جلسے میں تاریخی کامیابی کے بعد ہم نے طے کیا ہے کہ آج دھرنے میں جشن بیداری عوام منایا جائے گا۔ دھرنے میں وہ آئندہ کے لائحہ عمل کا بھی اعلان کریں گے۔
طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ پاکستان عوامی تحریک کے سیاسی جرگے کے ساتھ طویل مذاکرات ہوئے لیکن اس میں کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی، سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لئے حکومت جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کے لئے تیار نہیں، ہم بھی استعفوں کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے، ہوسکتا ہے نگران حکومت ہی قومی حکومت کی شکل اختیار کرلے۔
دھرنے کے مستقبل کے فیصلہ آج شام، طاہر القادری کا اعلان
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
شناختی کارڈ پر گھر کا پتہ تبدیل کرانے کا آسان طریقہ، نادرا نے رہنمائی جاری کر دی
-
یورپ میں شدید گرمی کے باوجود لوگ گھروں میں اے سی کیوں نہیں لگا سکتے؟
-
اسلام آباد کا نقشہ بدلنے والابڑا فیصلہ، نیا منصوبہ تیارکر لیا گیا
-
گلاس برج سے
-
لاہور،اسکول کے سکیورٹی گارڈ کی دوست کے ہمراہ خاتون ٹیچر کیساتھ اجتماعی زیادتی
-
سعودی عرب میں روزگار کیلیے مقیم غیرملکی ملازمین کو آخری ڈیڈ لائن دے دی گئی
-
پی ڈی ایم اے کا آندھی، بارشوں اور ژالہ باری کا الرٹ جاری
-
سونے کی قیمت عالمی دباؤ کا شکار، ایک دہائی کی بدترین سہ ماہی کا خدشہ
-
کابل زور دار دھماکوں سے گونج اٹھا،پورے شہر میں سیاہ بادل چھاگئے،ویڈیو وائرل
-
سونا سستا ہوگیا؛ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت گر گئی
-
جیو نیوز کی 10 محرم کو نشر ہونیوالی ڈاکیومینٹری ’سفر عشق‘ کے حوالے سے وضاحت اور معذرت
-
بلوچستان میں راستہ بھٹکنے والے کراچی کے تاجر کا ساتھ کب کیا ہوا؟ تفصیل سامنے آگئی
-
محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کر دی
-
سیف علی خان کا چاقو حملے کے ایک سال سے زائد عرصے بعد نیا انکشاف



















































