ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

برطانیہ میں 3 سال قبل انتقال کرجانے والی خاتون نے بھیج دیا قبرسے پوتی کے نام پیغام

datetime 20  اکتوبر‬‮  2014 |

لندن: برطانیہ میں 3 سال قبل انتقال کرجانے والی خاتون کی جانب سے  اپنی پوتی کے نام موبائل فون پر آنے والے پیغام نے نہ صرف  اسے  پریشان کردیا بلکہ اسے بسترعلالت پر بھی پہنچا دیا۔

ہوا کچھ یوں کی کہ جنوبی شیلڈ کی رہنے والی لیسلے ایمرسن انتقال کر گئیں تو موبائل فون سمیت ان کی چند پسندیدہ اشیا بھی ان کے ساتھ  قبر میں دفن کردی گئیں جب کہ  ان کی پوتی شیری ایمرسن جو اپنی دادی سے بہت محبت کرتی تھی اسے اپنی دادی کی موت کا بہت دکھ ہوا، وہ اپنی دادی کے قریب رہنے کے لیے اکثر انہیں ان کے نمبر پر ٹیکسٹ میسج کرنے لگی اور ایک دن  3 سال بعد اچانک شیری ایمرسن کو اپنی دادی کی طرف سے ایک پیغام کا جواب کچھ یوں ملا، ’’میں تمہیں دیکھ رہی ہوں اور جلد سب کچھ بہتر ہوجائےگا‘‘ بس پھر کیا تھا قبر سے میسج کا آجانا اس ٹیکسٹ میسج نے شیری کو سخت پریشان کردیا۔

جب اس کی فیملی کے کسی شخص  نے دادی کے نمبر پر فون کیا تو پتہ چلا کہ اس نیٹ ورک کو چلانے والی کمپنی نے یہ نمبر کسی اور کودے دیا ہے اور اس شخص نے جب شیری کے میسج پڑھے تو سمجھا کہ کوئی دوست انہیں تنگ کر رہا ہے۔ اس نے مذاق کا جواب مذاق میں دے دیا لیکن ان کا یہ پیغام شیری ایمرسن کو نہ صرف پریشان کردیا بلکہ ذہنی طور پر بیمار بھی  کردیا۔ حققیت سامنے آنے پر نیٹ ورک کمپنی نے شیری ایمرسن سے اس پریشانی پر معافی مانگ لی ہے اور کہا ہے کہ کسی انتقال کرجانے والے شخص کا نمبر کسی دوسرے شخص کو فوری الاٹ نہیں کیا جاتا تاہم پھر بھی وہ ایمرسن  سے ان کی پریشانی پر معافی مانگتے ہیں۔

شیری ایمرسن کاکہنا تھا کہ وہ اپنی دادی سے بہت محبت کرتی تھی اس لیے  ان کے نمبر پر اکثر  ٹیکسٹ میسج بھیجتی رہتی تھی اگرچہ اسے پتہ ہے کہ دادی زندہ نہیں لیکن ان تک میرا پیغام پہنچ جاتا ہے۔ اچانک ان کا میسج آجانا ان کے لیے صدمے اور ذہنی پریشانی کا باعث بن گیا اور اس کے دل میں خوف بیٹھ گیا کہ کوئی شخص مرنے کے بعد کیسے میسج کرسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…