ہفتہ‬‮ ، 07 مارچ‬‮ 2026 

ڈی کمپنی‘ کے اثاثے منجمد کرنے کا منصوبہ

datetime 6  اکتوبر‬‮  2014 |

امریکا کے ساتھ بنیادی طور پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند گروہوں کے خلاف مشترکہ طور پر کام کرنے کے معاہدے کے بعد ’ڈی کمپنی‘ نامی عسکری گروہ ہندوستان کی توجہ کا مرکز ہے۔

گزشتہ ہفتے ہندوستان اور امریکا نے لشکر طیبہ، القاعدہ، جیش محمد، حقانی نیٹ ورک اور ڈی کمپنی جیسی تنظیموں کے خلاف مشترکہ طور پر کارروائیاں کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے واشنگٹن کے دورے دوران ایک مشترکہ اعلامیے میں دونوں ممالک نے ان تنظیموں کی مالی اور ٹیکٹیکل سپورٹ ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

تاہم ہندوستانی اور امریکی میڈیا کے مطابق ہندوستان ایک مخصوص گروپ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جسے ڈی کمپنی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ہندوستانی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوال مودی کا دورہ ختم ہونے کے باوجود امریکا ہی میں رہے اور اس حوالے سے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینے میں معاونت فراہم کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دوال صاحب کا فوکس اسی گروپ پر رہا کیوں کہ ہندوستان کا یہ ماننا ہے کہ اس گروپ کے گرد گھیرا تنگ کرنا آسان ہوگا کیوں کہ اس کا انحصار اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ جیسے جرائم پر ہے۔

ہندوستان اعتراف کرتا ہے کہ اسی طرح کے اقدامات لشکر طیبہ جیسے گروپوں کے خلاف لینا مشکل ہوگا کیوں کہ یہ پاکستان کے اندر ہی سے اپنے فنڈز اکٹھا کرتے ہیں۔

ہندوستان نے رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کو آگاہ کیا کہ ڈی کمپنی مبینہ طور پر اربوں ڈالر قانونی کاروبار کے ذریعے حاصل کرتا ہے اور بالخصوص ہندوستان میں سرگرم ہے جبکہ اس کا کاروباری مفاد متحدہ عرب امارات اور پاکستان میں بھی ہے۔

ہندوستان کا دعویٰ ہے کہ اس گروپ کے پیسوں کے ٹرانزیکشنز کو امریکی حساس اداروں کی مدد سے باآسانی روکا جاسکتا ہے۔

ہندوستان کا ماننا ہے کہ ڈی کمپنی جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا انڈرگراؤنڈ کاروبار چلانے میں سرگرم ہے۔

اس گروپ کے متعدد اراکین انٹرپول کی مطلوب یا دہشت گرد فہرست میں پہلے ہی سے موجود ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اینڈ آف مسلم ورلڈ


ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…