بدھ‬‮ ، 21 جنوری‬‮ 2026 

ڈی کمپنی‘ کے اثاثے منجمد کرنے کا منصوبہ

datetime 6  اکتوبر‬‮  2014 |

امریکا کے ساتھ بنیادی طور پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند گروہوں کے خلاف مشترکہ طور پر کام کرنے کے معاہدے کے بعد ’ڈی کمپنی‘ نامی عسکری گروہ ہندوستان کی توجہ کا مرکز ہے۔

گزشتہ ہفتے ہندوستان اور امریکا نے لشکر طیبہ، القاعدہ، جیش محمد، حقانی نیٹ ورک اور ڈی کمپنی جیسی تنظیموں کے خلاف مشترکہ طور پر کارروائیاں کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے واشنگٹن کے دورے دوران ایک مشترکہ اعلامیے میں دونوں ممالک نے ان تنظیموں کی مالی اور ٹیکٹیکل سپورٹ ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

تاہم ہندوستانی اور امریکی میڈیا کے مطابق ہندوستان ایک مخصوص گروپ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جسے ڈی کمپنی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ہندوستانی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوال مودی کا دورہ ختم ہونے کے باوجود امریکا ہی میں رہے اور اس حوالے سے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینے میں معاونت فراہم کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دوال صاحب کا فوکس اسی گروپ پر رہا کیوں کہ ہندوستان کا یہ ماننا ہے کہ اس گروپ کے گرد گھیرا تنگ کرنا آسان ہوگا کیوں کہ اس کا انحصار اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ جیسے جرائم پر ہے۔

ہندوستان اعتراف کرتا ہے کہ اسی طرح کے اقدامات لشکر طیبہ جیسے گروپوں کے خلاف لینا مشکل ہوگا کیوں کہ یہ پاکستان کے اندر ہی سے اپنے فنڈز اکٹھا کرتے ہیں۔

ہندوستان نے رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کو آگاہ کیا کہ ڈی کمپنی مبینہ طور پر اربوں ڈالر قانونی کاروبار کے ذریعے حاصل کرتا ہے اور بالخصوص ہندوستان میں سرگرم ہے جبکہ اس کا کاروباری مفاد متحدہ عرب امارات اور پاکستان میں بھی ہے۔

ہندوستان کا دعویٰ ہے کہ اس گروپ کے پیسوں کے ٹرانزیکشنز کو امریکی حساس اداروں کی مدد سے باآسانی روکا جاسکتا ہے۔

ہندوستان کا ماننا ہے کہ ڈی کمپنی جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا انڈرگراؤنڈ کاروبار چلانے میں سرگرم ہے۔

اس گروپ کے متعدد اراکین انٹرپول کی مطلوب یا دہشت گرد فہرست میں پہلے ہی سے موجود ہیں۔



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…