اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

بڑے تعلیمی ادارے میں ہراسانی کا کلچر، انفلوئنسر نے راز فاش کردیا

datetime 10  مارچ‬‮  2026 |

لاہور(این این آئی)پاکستان کے نوجوان سوشل میڈیا انفلوئنسر عبدالرحمان عاصم نے آرٹس کے ایک بڑے تعلیمی ادارے میں میں مبینہ بلنگ کے کلچر سے متعلق انکشاف کرکے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

عبدالرحمان عاصم گزشتہ چند برسوں میں سوشل میڈیا پر اپنی منفرد اور حقیقت سے قریب مواد کی بدولت مقبول ہوئے۔ ان کی ویڈیوز خاص طور پر نوجوان نسل میں کافی پسند کی جاتی ہیں۔ سر پر رکھا ہوا ان کا مخصوص سرمئی تولیہ اور روزمرہ زندگی کے عام مگر دلچسپ موضوعات کو مزاحیہ انداز میں پیش کرنا ان کی پہچان بن چکا ہے، جس نے لاکھوں ناظرین کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی۔حال ہی میں انہوں نے خوشی کے ساتھ بتایا تھا کہ انہیں اپنی خوابوں کی یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا ہے جہاں وہ فلم سازی کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے داخلے کی ویڈیو بھی مداحوں کے ساتھ شیئر کی تھی جسے سوشل میڈیا پر خوب پذیرائی ملی۔تاہم چند ہی ہفتوں بعد انہوں نے ایک نئی ویڈیو میں اعلان کیا کہ وہ اپنی اسی خوابوں کی درسگاہ کو چھوڑ رہے ہیں۔ ان کے اس فیصلے نے مداحوں کو حیران کر دیا اور بہت سے لوگوں نے اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی۔بعد ازاں عبدالرحمان عاصم نے ایک ویڈیو کے ذریعے کھل کر بتایا کہ انہیں مبینہ طور پر یونیورسٹی کے اندر بلنگ کا سامنا کرنا پڑا، جو ان کے مطابق ادارے کے ماحول کا حصہ بن چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس تجربے نے انہیں ذہنی طور پر بہت متاثر کیا اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ادارہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ان کے انکشاف کے بعد سوشل میڈیا پر بھی کئی افراد نے اپنی کہانیاں بیان کرنا شروع کر دیں۔ متعدد صارفین نے کہا کہ انہوں نے بھی تعلیمی اداروں میں اسی طرح کے رویوں کا سامنا کیا ہے۔پاکستانی اداکارائوں درفشاں سلیم اور دانیہ انور نے بھی عبدالرحمان عاصم کی ہمت کی تعریف کی اور کہا کہ ایسے مسائل پر بات کرنا ضروری ہے۔ دوسری جانب کئی صارفین نے دعوی کیا کہ بلنگ کے باعث انہیں اپنی تخلیقی سرگرمیاں تک چھوڑنا پڑیں، جبکہ کچھ نے یہ بھی کہا کہ ادارے میں بعض اساتذہ اور عملے کے رویوں پر بھی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔عبدالرحمان عاصم کی ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر تعلیمی اداروں میں بلنگ اور ریگنگ کے مسئلے پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے اور بہت سے لوگ اس معاملے پر کھل کر بات کرنے لگے ہیں۔عبدالرحمان نے اپنی اگلی پوسٹوں میں ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے انھیں اس معاملے پر سپورٹ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…