اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

بڑے تعلیمی ادارے میں ہراسانی کا کلچر، انفلوئنسر نے راز فاش کردیا

datetime 10  مارچ‬‮  2026 |

لاہور(این این آئی)پاکستان کے نوجوان سوشل میڈیا انفلوئنسر عبدالرحمان عاصم نے آرٹس کے ایک بڑے تعلیمی ادارے میں میں مبینہ بلنگ کے کلچر سے متعلق انکشاف کرکے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

عبدالرحمان عاصم گزشتہ چند برسوں میں سوشل میڈیا پر اپنی منفرد اور حقیقت سے قریب مواد کی بدولت مقبول ہوئے۔ ان کی ویڈیوز خاص طور پر نوجوان نسل میں کافی پسند کی جاتی ہیں۔ سر پر رکھا ہوا ان کا مخصوص سرمئی تولیہ اور روزمرہ زندگی کے عام مگر دلچسپ موضوعات کو مزاحیہ انداز میں پیش کرنا ان کی پہچان بن چکا ہے، جس نے لاکھوں ناظرین کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی۔حال ہی میں انہوں نے خوشی کے ساتھ بتایا تھا کہ انہیں اپنی خوابوں کی یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا ہے جہاں وہ فلم سازی کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے داخلے کی ویڈیو بھی مداحوں کے ساتھ شیئر کی تھی جسے سوشل میڈیا پر خوب پذیرائی ملی۔تاہم چند ہی ہفتوں بعد انہوں نے ایک نئی ویڈیو میں اعلان کیا کہ وہ اپنی اسی خوابوں کی درسگاہ کو چھوڑ رہے ہیں۔ ان کے اس فیصلے نے مداحوں کو حیران کر دیا اور بہت سے لوگوں نے اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی۔بعد ازاں عبدالرحمان عاصم نے ایک ویڈیو کے ذریعے کھل کر بتایا کہ انہیں مبینہ طور پر یونیورسٹی کے اندر بلنگ کا سامنا کرنا پڑا، جو ان کے مطابق ادارے کے ماحول کا حصہ بن چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس تجربے نے انہیں ذہنی طور پر بہت متاثر کیا اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ادارہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ان کے انکشاف کے بعد سوشل میڈیا پر بھی کئی افراد نے اپنی کہانیاں بیان کرنا شروع کر دیں۔ متعدد صارفین نے کہا کہ انہوں نے بھی تعلیمی اداروں میں اسی طرح کے رویوں کا سامنا کیا ہے۔پاکستانی اداکارائوں درفشاں سلیم اور دانیہ انور نے بھی عبدالرحمان عاصم کی ہمت کی تعریف کی اور کہا کہ ایسے مسائل پر بات کرنا ضروری ہے۔ دوسری جانب کئی صارفین نے دعوی کیا کہ بلنگ کے باعث انہیں اپنی تخلیقی سرگرمیاں تک چھوڑنا پڑیں، جبکہ کچھ نے یہ بھی کہا کہ ادارے میں بعض اساتذہ اور عملے کے رویوں پر بھی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔عبدالرحمان عاصم کی ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر تعلیمی اداروں میں بلنگ اور ریگنگ کے مسئلے پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے اور بہت سے لوگ اس معاملے پر کھل کر بات کرنے لگے ہیں۔عبدالرحمان نے اپنی اگلی پوسٹوں میں ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے انھیں اس معاملے پر سپورٹ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…