اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

سر میں جوؤں کی بھرمار، ندا یاسر کے بیان نے نئی بحث چھیڑ دی

datetime 9  جنوری‬‮  2026 |

لاہور (این این آئی)معروف میزبان، اداکارہ اور پروڈیوسر ندا یاسر کے اپنے حوالے سے کیے گئے ایک انکشاف نے سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث چھیڑ دی۔ندا یاسر اس وقت بھی مارننگ شو کی سب سے زیادہ مقبول میزبان ہیں۔ وہ طویل عرصے سے شو کی میزبانی کا منفرد اعزاز بھی اپنے پاس رکھتی ہیں۔ندایاسر نے ڈراموں میں بھی کام کیا اور ان کے والد بھی ڈراما انڈسٹری کی جانی مانی شخصیت ہیں اور شوہر یاسر نواز سے کون واقف نہیں۔تاہم ندایاسر کو اصل مقبولیت ان کے مارننگ شو سے ملی ہے جو وہ 17 سال سے مسلسل کرتی آرہی ہیں اور آج بھی یہ مقبول شو ہے۔علاوہ ازیں ندا کی ایک شہرت ان کے دلچسپ اور کبھی کبھی متنازع بیانات بھی ہیں جن پر ہمیشہ ہی سوشل میڈیا پر بحث چھڑ جاتی ہے۔

اس بار انھوں نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان کے سر میں جوں کی بھرمار ہو گئی تھی۔ندا یاسر نے مزید بتایا کہ انھوں نے دبئی سے ہیئر ایکسٹینشنز لگوائی تھیں۔ جسے مکمل طریقے سے بالوں میں سلوایا گیا تھا اور وہ دیکھنے میں نہایت خوبصورت بھی لگ رہی تھیں۔ندا یاسر کے بقول میں لمبے بال پا کر بے حد خوش تھیں اور باقاعدگی سے ایکسٹینشنز کو شیمپو بھی کرتی تھیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ شیمپو کے بعد ان کے قدرتی بال تو جلد خشک ہو جاتے تھے لیکن جس حصے میں ایکسٹینشنز لگی ہوتی تھیں وہ اکثر نم رہتا تھا جس کی وجہ سے وہ جگہ جوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن گئی۔ندا یاسر نے مزید بتایا کہ میں نے فورا پارلر جا کر ہیئر ایکسٹینشنز اتروا دیں تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔سوشل میڈیا صارفین اس انکشاف پر ملا جلا ردعمل دے رہے ہیں، کچھ لوگ ندا کی ایمانداری کو سراہ رہے ہیں کہ انھوں نے ایک ایسی چیز کا برملہ اعتراف جسے کم ہی لوگ کسی کو بتا پاتے ہیں۔ تاہم کچھ صارفین نے اس واقعے کو ان کے حد سے زیادہ ذاتی تجربات کے انکشاف کی ایک اور مثال قرار دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…