ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

رجب بٹ کے وکیل اور کراچی بار کے وکلا کے درمیان صلح ہوگئی

datetime 9  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معروف ٹک ٹاکر رجب بٹ کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق اور کراچی کے وکلا کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیابی سے مکمل ہو گئے ہیں، جس کے بعد فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف دائر تمام مقدمات اور درخواستیں واپس لینے پر اتفاق کر لیا ہے۔

کراچی سٹی کورٹ میں بار ایسوسی ایشن کے دفتر میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر میاں علی اشفاق نے بتایا کہ دونوں جانب سے تفصیلی بات چیت کی گئی اور درج مقدمات کے پس منظر اور وجوہات کا بغور جائزہ لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس واقعے کے نتیجے میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی، اس کے تمام پہلوؤں پر غور کیا گیا اور طے پایا کہ مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کیا جائے، چاہے معاملہ ایڈووکیٹ ریاض سولنگی سے متعلق ہو یا ان کے مؤکل رجب بٹ سے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس تصفیے کے لیے کسی فریق پر کوئی شرط عائد نہیں کی گئی اور معاملہ باہمی رضا مندی سے حل کیا گیا ہے۔ بیرسٹر میاں علی اشفاق نے کہا کہ وہ گزشتہ تقریباً دس برس سے سندھ میں وکالت کر رہے ہیں اور اس تنازعے کے حل میں کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ نے کلیدی کردار ادا کیا۔

اس موقع پر صدر کراچی بار ایسوسی ایشن عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ اس واقعے سے کراچی بار کی ساکھ متاثر ہوئی تھی، حالانکہ کراچی بار میں تمام قومیتوں، مذاہب اور مسالک کا احترام کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلا کو مذہبی نوعیت کے معاملات میں قانونی دائرے کے اندر رہتے ہوئے کردار ادا کرنا چاہیے اور خود فریق نہیں بننا چاہیے۔

عامر نواز وڑائچ نے مزید کہا کہ کراچی بار قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے، اسی وجہ سے اسے نشانہ بنایا گیا اور عوام میں وکلا کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم آج دونوں فریقین کو آزادانہ فیصلہ کرنے کا موقع دیا گیا اور کسی جانب سے کوئی دباؤ نہیں تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کراچی بار تشدد کی کسی صورت حمایت نہیں کرتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ بار سے رجوع کرے اور وکلا سے بھی اپیل کی کہ عدالت آنے والے سائلین کے ساتھ عزت و احترام کا برتاؤ کیا جائے۔

واضح رہے کہ 29 دسمبر 2025 کو رجب بٹ اور دو وکلا، ریاض سولنگی اور فتح ایڈووکیٹ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی، جو بعد ازاں ہاتھا پائی میں تبدیل ہو گئی۔ اس واقعے کے بعد بیرسٹر میاں علی اشفاق نے سٹی کورٹ تھانے میں وکلا کے خلاف مقدمہ درج کروایا اور سندھ بار کونسل میں درخواست دائر کی، جس کے ردعمل میں وکلا نے احتجاج اور ہڑتال کی تھی۔ بعد ازاں بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کر لیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…