اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

محبت، دھوکہ اور بے بسی؛ نیپالی گلوکارہ کی خود سوزی سے المناک موت

datetime 27  اکتوبر‬‮  2025 |

کٹھمنڈو (نیوز ڈیسک) نیپال کی مشہور گلوکارہ نیتو پاڈیل، جو اپنی مدھر آواز اور خوشگوار زندگی کے خوابوں کے لیے جانی جاتی تھیں، زندگی اور موت کی کشمکش میں چند روز جدوجہد کے بعد چل بسیں۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق نیتو پاڈیل نے 17 اکتوبر کو اپنے قریبی دوست اور موسیقار بابل گیری کے اسٹوڈیو میں خود پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا لی تھی۔ فوری طور پر انہیں شدید جھلسنے کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ایک ہفتے تک ان کا علاج جاری رہا، مگر وہ جانبر نہ ہوسکیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق گلوکارہ کے جسم کا تقریباً 75 فیصد حصہ جل چکا تھا۔ تمام تر کوششوں کے باوجود وہ زخموں کی تاب نہ لا سکیں اور بالآخر ان کی موت کی تصدیق کردی گئی۔

ذرائع کے مطابق نیتو پاڈیل گزشتہ سات برسوں سے بابل گیری کے ساتھ تعلق میں تھیں۔ دونوں کے درمیان نہ صرف پیشہ ورانہ رشتہ تھا بلکہ ذاتی زندگی میں بھی وہ ایک دوسرے کے بہت قریب تھے۔ نیتو پاڈیل بابل کے اسٹوڈیو کے نیچے ایک کافی کیفے کی مالک بھی تھیں، جہاں موسیقی کے شعبے سے وابستہ افراد اکثر آیا جایا کرتے تھے۔

تاہم حالیہ چند ماہ کے دوران دونوں کے درمیان شادی سے متعلق اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے۔ نیتو کے قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ بابل گیری نے مبینہ طور پر کسی اور خاتون سے تعلقات بنا رکھے تھے اور اسی وجہ سے نیتو سے شادی سے گریزاں تھے۔

گلوکارہ کے بھائی گھنیش پاڈیل نے بابل گیری کے خلاف پولیس میں مقدمہ درج کرا دیا ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں واقعے کی ممکنہ وجوہات میں ذاتی تنازعات، جذباتی دباؤ اور مبینہ دھوکہ دہی شامل ہو سکتی ہیں۔ مزید تفتیش جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…