جمعرات‬‮ ، 16 جولائی‬‮ 2026 

حمیرا کی لاش لینے سے والد نے کیوں انکار کیا اور اہلخانہ تاخیر سے کیوں آئے؟ اداکارہ کے بھائی نے ساری کہانی سنادی

datetime 11  جولائی  2025 |

کراچی (نیوز ڈیسک) چند روز قبل کراچی کے علاقے ڈیفنس سے برآمد ہونے والی معروف اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ان کے بھائی کے سپرد کر دی گئی۔

بتایا گیا ہے کہ 10 جولائی کو اداکارہ کے بھائی نوید اصغر دیگر قریبی رشتہ داروں کے ہمراہ لاہور سے کراچی پہنچے۔ میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے نوید اصغر نے ان سوالات کا جواب دیا جو حمیرا کی موت کے بعد عوامی سطح پر زیر بحث تھے۔

جب ان سے حمیرا کے طویل عرصے سے خاندان سے رابطہ نہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو نوید نے بتایا: “گزشتہ ایک سال سے حمیرا ہم سے مکمل طور پر لاپتہ تھی، اس کے تمام موبائل نمبر بند تھے۔ جب والدہ نے ذکر کیا کہ کافی عرصے سے اس کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تو میں نے اس کی پرانی ڈائری میں درج کچھ دوستوں سے رابطہ کیا، مگر ان سے بھی کوئی معلومات نہ مل سکیں۔”

انہوں نے مزید کہا: “والدہ نے کئی بار حمیرا سے اس کے قیام کی جگہ پوچھنے کی کوشش کی، مگر وہ کبھی بھی ٹھکانے کے بارے میں نہیں بتاتی تھیں۔ جب اچانک اس کی موت کی خبر ملی تو پورا خاندان شدید صدمے میں چلا گیا، ہمیں یقین نہیں آ رہا تھا۔ ویسے بھی کچھ روز قبل ہماری پھوپھی ایک حادثے میں جاں بحق ہو گئی تھیں، اس وجہ سے گھر پہلے ہی غم میں ڈوبا ہوا تھا۔”

نوید اصغر نے اس تاثر کی وضاحت بھی کی کہ ان کے والد نے میت وصول کرنے سے انکار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا: “جب والدہ کو پتا چلا کہ لاش کی حالت انتہائی خراب ہے تو وہ شدید جذباتی ہو گئیں اور کہا کہ وہ لاش نہیں دیکھ سکتیں۔ اسی تناظر میں والد نے کہا تھا کہ اگر ضرورت ہو تو تدفین کردی جائے۔ لیکن ہم نے مکمل قانونی کارروائی کے بعد لاش وصول کی ہے اور میں والد کی اجازت سے یہاں آیا ہوں۔”

نوید نے مزید کہا کہ حمیرا آزاد زندگی گزار رہی تھی اور اپنی مرضی سے کراچی میں رہائش پذیر تھی۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ ملنے کے بعد ہی کسی قانونی کارروائی یا ایف آئی آر کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پچھلے تین دنوں سے وہ مسلسل چھیپا ویلفیئر اور پولیس سے رابطے میں تھے، جبکہ میڈیا کی جانب سے بار بار کالز آنے پر گھر والوں کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

آخر میں نوید اصغر نے میڈیا سے شکوہ کرتے ہوئے کہا: “کیا آپ میں سے کسی نے فلیٹ کے مالک کا انٹرویو کیا؟ سب کی توجہ صرف ہمارے خاندان پر رہی، کسی نے اس زاویے سے سوال نہیں کیا۔”

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…