پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کیس میں گرفتار مرکزی ملزم عمر حیات کے تفتیش میں اہم انکشافات، قتل کی وجوہات بھی بتا دیں

datetime 4  جون‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کیس میں گرفتار ملزم عمر حیات عرف کاکا نے دورانِ تفتیش ہوشربا انکشافات کیے ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزم نے نہ صرف جرم کا اعتراف کر لیا بلکہ قتل کی وجوہات بھی تفصیل سے بیان کی ہیں۔تحقیقات کے مطابق عمر حیات نے بتایا کہ وہ اس بات پر دلبرداشتہ تھا کہ ثناء یوسف اس سے ملاقات کرنے پر آمادہ نہیں ہوئیں۔

2 جون کو، جو کہ ثناء کی سالگرہ کا دن تھا، عمر تحفے اور کیک لے کر اسلام آباد ان کے گھر پہنچا، مگر ثناء نے ملنے سے صاف انکار کر دیا، جس پر ملزم نے شدید غصے اور رنج کی حالت میں انہیں قتل کر دیا۔مزید تفتیش سے معلوم ہوا کہ عمر حیات فیصل آباد سے کرائے پر لی گئی فورچونر گاڑی کے ذریعے اسلام آباد آیا تھا۔ وہ 29 مئی کو بھی اسلام آباد آیا تھا مگر مقتولہ نے تب بھی ملاقات سے انکار کیا۔ عمر نے گاڑی کا کرایہ ادا نہیں کیا تھا، جس پر گاڑی کے مالک نے ملزم کی گرفتاری کے بعد سامنے آ کر رقم کا دعویٰ کیا۔قتل کے بعد عمر حیات جائے واردات سے فرار ہو گیا۔ پہلے اس نے موٹر بائیک کے ذریعے نکلنے کی کوشش کی، پھر راستے میں ٹیکسی کے ذریعے اسلام آباد لاری اڈہ پہنچا جہاں سے فیصل آباد روانہ ہوا۔

پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیجز، موبائل فون ڈیٹا اور دیگر تکنیکی ذرائع کی مدد سے ملزم کو ٹریس کیا۔پولیس نے قتل میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کر لیا ہے، جب کہ مقتولہ کے اہل خانہ کی شناخت کے بعد قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اس افسوسناک واقعے نے شہر بھر میں بے چینی کی لہر دوڑا دی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم کو ٹریس کرنے کے لیے 113 سی سی ٹی وی کیمرے اور 300 سے زائد کال ریکارڈز کا جائزہ لیا گیا، جب کہ ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے اسلام آباد، فیصل آباد اور جڑانوالہ میں 11 چھاپے مارے گئے۔آئی جی نے یہ بھی بتایا کہ عمر حیات میٹرک پاس ہے اور اس کے والد سرکاری ملازمت سے گریڈ 16 میں ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ثناء یوسف کا قتل پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا، جس سے بھرپور پروفیشنل انداز میں نمٹا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…