اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

عدنان صدیقی فضائی حادثے سے بال بال بچ گئے؛ الوداعی پیغام بھی لکھ لیا تھا

datetime 26  مئی‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)لاہور کے آسمان پر طوفان میں پھنس کر حادثے سے بال بال بچ جانے والی پرواز میں سوار معروف اداکار عدنان صدیقی نے انسٹاگرام پر اپنے اس بھیانک تجربے کو انتہائی جذباتی انداز میں بیان کیا ہے۔24 مئی کو کراچی سے لاہور جانے والی اس پرواز میں سابق وفاقی وزیر اسد عمر سمیت دیگر مسافر بھی سوار تھے۔عدنان صدیقی نے اپنے انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا: کل، کہیں کراچی کے آسمان اور لاہور کے میدانوں کے درمیان، میں نے زندگی اور موت کے درمیان کھڑے ہو کر اپنی بے بسی کا احساس کیا۔ ایک معمول کا سفر اچانک ایسے لمحات میں بدل گیا جو انسان کو اس کے وہمِ اختیار سے نکال کر زندگی کی اصل حقیقت دکھا دیتا ہے۔اداکار نے مزید لکھا کہ جب طیارے کو شدید جھٹکے لگے تو مسافروں میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔ مسافر چیخ رہے تھے، ایک دوسرے کو تھامے ہوئے تھے۔ اکثریت کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

میں نے فون نکال کر ایک الوداعی پیغام لکھا جو شاید میرے جنازے پر پڑھا جاتا۔ لینڈنگ کے بعد میں نے وہ پیغام ڈیلیٹ کردیا، لیکن ہر لفظ دل سے لکھا تھا۔اداکار نے پائلٹ کی مہارت کو سراہتے ہوئے لکھا: جب جہاز لاہور کی زمین کو چھو ہی رہا تھا کہ اچانک ایک تیز جھٹکے کے ساتھ دوبارہ آسمان کی طرف بلند ہوگیا۔ کپتان کو سلام پیش کرتا ہوں، کیا زبردست فیصلہ، کیا حاضر دماغی!انہوں نے اپنے تجربے کو زندگی کی ایک اہم سبق قرار دیتے ہوئے لکھا: یہ صرف پرواز کا اختتام نہیں تھا، یہ اللہ کا کرم تھا۔ زندگی نازک ہے، مختصر ہے اور انتہائی مقدس ہے۔ اپنے پیاروں کو قریب رکھیں اور ہر لمحے کی قدر کریں۔واضح رہے کہ طوفان کے بعد 57 مسافروں نے دوبارہ سفر کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ائیرپورٹ ذرائع کے مطابق ان مسافروں کو ان کے سامان کی واپسی میں کچھ تاخیر کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…