اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ، جو حالیہ دنوں میں تنازعات میں گھرے ہوئے تھے، نے اپنے تازہ ترین ویڈیو بلاگ میں انکشاف کیا ہے کہ وہ پاکستان چھوڑ چکے ہیں اور اس وقت ملک میں موجود نہیں ہیں۔
اپنے جذباتی پیغام میں، رجب بٹ نے ملک چھوڑنے کی وجوہات بتاتے ہوئے اپنی تکلیف اور ذہنی دباؤ کا اظہار کیا، جس نے ان کے مداحوں کو بھی افسردہ کر دیا۔
رجب بٹ ان دنوں توہین مذہب کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں، جو ان کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنے۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے اپنا پرفیوم برانڈ لانچ کیا، مگر اس کا نام متنازع ثابت ہوا، جس کے بعد انہیں شدید تنقید اور قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اگرچہ رجب بٹ نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر اور خانہ کعبہ کے سامنے احرام میں ملبوس ہو کر اپنی غلطی پر معافی مانگی، مگر ان کی مشکلات ختم نہ ہو سکیں۔
اپنے ولاگ میں انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ 23 مارچ کی رات پاکستان سے روانہ ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی جان کی پرواہ نہیں، لیکن وہ اپنی والدہ اور اہل خانہ کی سلامتی کے بارے میں فکر مند تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بغیر کسی سامان کے تنہا بیرون ملک چلے گئے اور ان کے خاندان کو بھی ان کے جانے کی اطلاع بعد میں ملی۔
رجب بٹ نے اپنی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ یہ کٹھن وقت کب ختم ہوگا، لیکن وہ اپنے والدین کی سلامتی کے لیے دعاگو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے زندگی میں بہت کچھ حاصل کیا، مگر اب انہیں اپنے ہی ملک میں رہنے کی اجازت نہیں مل رہی، جس کی وجہ سے وہ بے حد پریشان ہیں۔
ویڈیو کے دوران، رجب بٹ آبدیدہ ہو گئے اور کہا: “میں نے غلطی کی، مگر جب اللہ معاف کر دیتا ہے تو انسان کون ہوتے ہیں سزا دینے والے؟” انہوں نے عوام سے معافی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے مسائل کی وجہ سے ان کے والدین کو کوئی نقصان پہنچا تو وہ خود کو کبھی معاف نہیں کر پائیں گے۔
ان کے جذباتی الفاظ سن کر ان کے مداح بھی افسردہ ہو گئے۔ کئی لوگوں نے ان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی حفاظت کو ترجیح دیں اور بیرون ملک ہی رہیں، کیونکہ ان کے مطابق پاکستان میں کامیاب ڈیجیٹل تخلیق کاروں کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔