اسلام آباد (نیوز ڈیسک)اسلام آباد (نیوز ڈیسک) جہاں مصنوعی ذہانت (AI) نے زندگی کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، وہیں اس کے منفی پہلو بھی سامنے آ رہے ہیں۔ پاکستان میں انٹرنیٹ خواندگی کی کمی کے باعث اکثر لوگ اصل اور جعلی ویڈیوز میں تمیز نہیں کر پاتے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایڈٹ شدہ اور جعلی ویڈیوز بنانے کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں کئی مشہور شخصیات کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، اور اب اس فہرست میں کم عمر اداکارہ عینا آصف کا نام بھی شامل ہو گیا ہے۔سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں انہیں سگریٹ پیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ جیسے ہی یہ ویڈیو سامنے آئی، صارفین کے درمیان بحث چھڑ گئی۔ بعض افراد نے اسے حقیقت سمجھ کر اداکارہ پر تنقید کی، جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ جعلی اور ایڈٹ شدہ ہے۔2008 میں پیدا ہونے والی عینا آصف اس وقت میٹرک کی طالبہ ہیں۔ انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز چائلڈ ماڈل کے طور پر کیا اور کئی مشہور برانڈز کے اشتہارات میں کام کیا۔2021 میں، انہوں نے ڈرامہ سیریل “پہلی سی محبت” میں حمنا کا کردار ادا کرتے ہوئے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا۔
اس کے بعد 2022 میں وہ ڈرامہ “ہم تم” میں ملیحہ اور “پنجرہ” میں عبیر کے کردار میں نظر آئیں۔ 2023 میں، اے آر وائی ڈیجیٹل کے مشہور ڈرامہ “مایی ری” میں قرۃ العین (انی) حبیب کے مرکزی کردار نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔یہ واقعہ مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کے سنگین نتائج کو اجاگر کرتا ہے۔ جعلی ویڈیوز صرف مشہور شخصیات ہی نہیں بلکہ عام افراد کی زندگیوں پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ انٹرنیٹ صارفین کو چاہیے کہ کسی بھی وائرل ویڈیو پر یقین کرنے یا اسے شیئر کرنے سے پہلے اس کی حقیقت کی تصدیق کریں، تاکہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔