ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

ماہرہ خان فلم رئیس کا حصہ کیسے بنیں، ڈائریکٹر نے راز سے پردہ اٹھا دیا

datetime 22  اکتوبر‬‮  2024 |

ممبئی(این این آئی) پاکستان کی معروف اداکارہ ماہرہ خان 2017 میں بالی ووڈ فلم ‘رئیس’ کا حصہ کیسے بنیں، فلم کے ہدایت کار راہول ڈھولکیا نے اس راز سے پردہ اٹھا دیا۔بھارتی فلم رئیس میں ماہرہ خان نے بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان کے مدمقابل کام کیا تھا، رئیس ماہرہ خان کے کیرئیر میں بالی ووڈ کی پہلی اور ا?خری فلم ثابت ہوئی تھی، کیونکہ ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے انہیں فلم کی ریلیز سے قبل ہی دھمکیاں ملنا شروع ہو گئی تھیں۔

انتہا پسندوں کی دھمکیوں کی وجہ سے ماہرہ خان فلم کی تشہیر کرنے کے قابل بھی نہیں تھیں، لیکن فلم میں ان کے کام کو مداحوں نے پسند کیا اور انہیں فلم میں آسیہ کا کردار ادا کرنے کے لئے بھی بہت تعریف ملی۔’رئیس’ میں ماہرہ خان کی کاسٹنگ کے حوالے سے کئی کہانیاں سامنے آئی جن میں مختلف دعوے کیے گئے تھے کہ اس کردار میں کس کو کاسٹ کیا جائے گا۔فلم ‘رئیس’ کے ہدایت کار راہول ڈھولکیا نے بالآخر انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ماہرہ خان کو کیسے تلاش کیا اور وہ اس فلم کا حصہ بن گئیں۔ایک بھارتی میڈیا ہاؤس کو انٹرویو میں راہل ڈھولکیا نے دعویٰ کیا کہ وہ رئیس کے لیے ایک ایسی لڑکی چاہتے ہیں جو 30 سال سے زیادہ عمر کی ہو اور اچھی اردو بول سکے۔

انہوں نے کہا کہ کرینہ کپور، دپیکا پڈوکون، کترینہ کیف جیسی ہیروئنیں تھیں جو معصوم نظر آتی تھیں لیکن وہ یا تو اتنا چھوٹا سا کردار کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں یا زیادہ معاوضہ لینا چاہتی تھیں۔راہل کی اپنی ماں اور گوری خان کی والدہ نے ماہرہ کو دیکھا تھا اور آزادانہ طور پر ان کی سفارش کی تھی۔ راہل نے اپنی ماں کے کہنے پر ماہرہ خان کا آڈیشن لیا، راہل کا کہنا تھا کہ آڈیشن کے وقت ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ فلم رئیس کی آسیہ ماہرہ خان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…