ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

نصرت فتح علی کو مداحوں سے بچھڑے 24سال گزرگئے

datetime 16  اگست‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی)برصغیر پاک و ہند سمیت دنیا بھر میں کروڑوں دلوں پر راج کرنے والے عظیم قوال، موسیقار و گلوکار استاد نصرت فتح علی خان کی 24ویں برسی گزشتہ روز منائی گئی ۔پنجاب کے شہر فیصل آباد کے معروف گھرانے سے تعلق رکھنے والے ممتاز گلوکار اور منفرد لہجے کے قوال و موسیقار استاد نصرت فتح علی خان نے سیکڑوں کی تعداد میں

انتہائی خوبصورت اور یادگار غزلیں، قوالیاں اور گیت پیش کیے۔استاد نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1948 کو پیدا ہوئے اور انہوں نے انتہائی کم عرصے میں دنیا میں مقبولیت حاصل کی، انہیں نہ صرف اپنے گیتوں بلکہ قوالی کی وجہ سے بھی منفرد حیثیت حاصل تھی۔استاد نصرت فتح علی خان جگر اور گردوں کے عارضے سمیت مختلف امراض میں مبتلا ہونے کے باعث صرف 48 برس کی عمر میں 16 اگست 1997 کو کروڑوں مداحوں کو سوگوار چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔وفات کے وقت وہ اپنے کریئر کے عروج پر تھے، کئی بین الاقوامی فنکار اسے اپنی خوش قسمتی قرار دیتے ہیں کہ انہوں نے نصرت فتح علی خان کے ساتھ کام کیا۔استاد نصرت فتح علی خان نے دم مست قلندر مست، علی مولا علی، یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے، میرا پیا گھر آیا، اللہ ہو اللہ ہو، کنا سوہنا تینوں رب نے بنایا، اکھیاں اڈیک دیاں، کسی دا یار نا وچھڑے، میرا پیا گھر آیا، آفریں آفریں اور میری زندگی جیسے لازوال گیت اور قوالیاں پیش کیں۔ نصرت فتح علی نے قوالی کے 125 آڈیو البم ریلیز کیے جو عالمی ریکارڈ بھی ہے، ان کے ترتیب دئیے گئے گانوں اور موسیقی کی وجہ سے بالی وڈ کو بھی دنیا بھر میں منفرد شہرت ملی اور آج تک بالی وڈ فلموں میں ان کے تیار کیے گئے گانوں کو شامل کیا جاتا ہے۔استاد نصرت فتح علی خان کی نمایاں خدمات کے باعث ہی کئی بھارتی اداکار و فلم ساز انہیں فخر سے اپنے ملک کا حصہ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی بھی موسیقی میں کوئی تفریق نہیں رکھی اور بھارتی فلم انڈسٹری کو شاندار موسیقی دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…