ہندو لڑکی کو مسلمان گھرانے کی بہو دکھانے کے اشتہار پر تنازع کھڑا ہوگیا انتہاپسند ہندوؤں کی اشتہار کو ’لو جہاد‘ قرار دے کر زیورات کی کمپنی پر شدید تنقید 

  بدھ‬‮ 14 اکتوبر‬‮ 2020  |  23:35

ممبئی (این این آئی)بھارت میں زیورات کے اشتہار میں مسلمان گھرانے میں ہندو لڑکی کو بہو کے طور پر دکھائے جانے پر تنازع پیدا ہوگیا، جس کے بعد کمپنی نے اشتہار کی ویڈیو ہٹادی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت کے بڑے کاروباری اداروں میں شمار ہونیوالے ’ٹاٹا‘ گروپ کی زیورات سےمتعلق ذیلی کمپنی کے اشتہار پر انتہاپسند افراد نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔ٹاٹا گروپ کی ذیلی کمپنی ’تنشق‘ نے 12 اکتوبر کو زیورات کا ایک مختصر اشتہار جاری کیا تھا، جس میں ایک ہندو خاتون کو مسلمان گھرانے کی بہو کے طور پر دکھایا گیا تھا۔اشتہار میں مسلمان گھرانے کی


جانب سے اپنی ہندو بہو کے حاملہ ہونے کے بعد اس کے آنیوالے بچے کیلئے گود بھرائی کی رسم کو دکھایا گیا تھا۔اشتہار میں ہندو بہو گود بھرائی کی رسم کے دوران اپنی مسلمان ساس سے جذباتی انداز میں پوچھتی ہیں کہ ان کے ہاں تو ایسی رسم نہیں ہوتی نا؟ جس پر ساس انہیں جواب دیتی ہے کہ بیٹی کو خوش کرنے کی رسم تو ہر گھر میں ہوتی ہے جس پر ہندو بہو اپنی مسلمان ساس کا جواب سن کر مزید جذباتی ہوجاتی ہیں اور اسی دوران ہی ساس کی جانب سے بہو کو تنشق کے نئے زیورات تحفے کے طور پر دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔مذکورہ اشتہار جاری کیے جانے کے بعد ابتدائی طور پر انتہاپسند ہندوؤں نے اعتراض کرتے ہوئے اشتہار کو ’لو جہاد‘ قرار دے کر زیورات کی کمپنی پر سخت تنقید کی۔اشتہار کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ٹوئٹر پر بھی ’بائیکاٹ تنشق‘ کا ٹرینڈ ٹاپ پر آگیا اور اشتہار کے حق اور مخالفت میں سیاستدان، صحافی، سماجی رہنما اور معروف میڈیا پرسنالٹیز بھی اپنی اپنی رائے کا اظہار کرنے لگیں۔سوشل میڈیا پر انتہاپسند ہندوؤں کی سخت تنقید کے بعد اگرچہ زیورات کمپنی نے ویڈیو کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ہٹادیا، تاہم اس کے باوجود مذکورہ اشتہار پر بحث و تنازع جاری ہے ۔تنشق جیولرز کی جانب سے سوشل میڈیا پرجاری معافی نامے میں وضاحت کی گئی کہ اشتہار بنانے کا مقصد ملک میں مختلف نظریات اور طبقات سے وابستہ افراد کو اتحاد کے طور پر دکھانا تھا تاہم ویڈیو کا مواد بعض افراد کیلئے تکلیف کا باعث بنا، جس پر کمپنی معافی کی طلب گار ہے۔


زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎