ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ماروی سرمد کو گالی دینے کا معاملہ، خلیل الرحمان قمر شدید تنقید کی زد میں آگئے ، اپنوں نے بھی نہ بخشا،باہر نکلنا مشکل ہوگیا‎

datetime 4  مارچ‬‮  2020 |

لاہور( آن لائن )اپنا جسم دیکھو جا کے، تھوکتا نہیں ہے کوئی آپ کے جسم پر، تیرے جسم میں ہے کیا، اس پر مرضی چلاتا کون ہے؟ بے حیا عورت کے جسم پر کوئی تھوکتا بھی نہیں ہے، گھٹیا عورت، خلیل الرحمان قمر ماروی سرمد پر برس پڑے تھے۔

تفصیلات کے مطابق نجی نیوز چینل کے ایک لائیو شو میں معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر اور خاتون صحافی ماروی سرمد کے درمیان انتہائی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا جس کے بعد اس پر سوشل میڈیا پر خوب بحث چھڑی ہوئی ہے۔لوگوں کی جانب سے خلیل الرحمان قمر کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسی موقع پر شوبر ستاروں اور میڈیا نمائندگان نے بھی معروف لکھاری کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پیغام جاری کرتے ہوئے شہزاد رائے کا کہنا تھا کہ نعرے “میرا جسم میری مرضی” میں کسی قسم کا کوئی حرج نہیں ہے۔اگر کسی کا جسم ہے تو اس پر مرضی بھی اسی کی ہو گی۔اس لئے اس نعرے پر کسی کا تنقید کرنا بنتا نہیں ہے۔خلیل الرحمان قمر کو کام ملنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے معروف اداکارہ ماہرہ خان نے پیغام جاری کیا ہے کہ مجھے  سمجھ نہیں آتی کہ ایک ایسے شخص کوکام کیسے مل رہا ہے جس نے لائیو شو میں ایک خاتون کو گالی دی۔پروگرام ختم ہونے کے بعد پروگرام کی اینکر نے بھی سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرتے ہوئے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے نہیں علم تھا کہ یہ تنازع اس قدر شدت اختیار کر جائے گا، میں اپنے ناظرین سے معافی مانگتی ہوں۔یاد رہے کہ اس سے قبل ہیومن راٹس کمیشن نے ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر سے معافی کا مطالبہ کردیا۔

معافی کا مطالبہ منگل کی رات نجی چینل پر پروگرام کے دوران خلیل الرحمان اور سماجی کارکن ماروی سرمد کے درمیان جھگڑے پر کیا گیا ۔ہومین راٹس کمیشن نے خلیل الرحمان قمر سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیمرا (پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ) خلیل الرحمان قمر کی بدتمیزی کا نوٹس لے اور ذمہ داروں کو سزا دے۔ ہیومن راٹس کمیشن نے موقف اختیار کیا کہ خلیل الرحمان قمر ماضی میں بھی طاہرہ عبداللہ سے بدتمیزی کر چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…