اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

ماروی سرمد کو گالی دینے کا معاملہ، خلیل الرحمان قمر شدید تنقید کی زد میں آگئے ، اپنوں نے بھی نہ بخشا،باہر نکلنا مشکل ہوگیا‎

datetime 4  مارچ‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور( آن لائن )اپنا جسم دیکھو جا کے، تھوکتا نہیں ہے کوئی آپ کے جسم پر، تیرے جسم میں ہے کیا، اس پر مرضی چلاتا کون ہے؟ بے حیا عورت کے جسم پر کوئی تھوکتا بھی نہیں ہے، گھٹیا عورت، خلیل الرحمان قمر ماروی سرمد پر برس پڑے تھے۔

تفصیلات کے مطابق نجی نیوز چینل کے ایک لائیو شو میں معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر اور خاتون صحافی ماروی سرمد کے درمیان انتہائی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا جس کے بعد اس پر سوشل میڈیا پر خوب بحث چھڑی ہوئی ہے۔لوگوں کی جانب سے خلیل الرحمان قمر کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسی موقع پر شوبر ستاروں اور میڈیا نمائندگان نے بھی معروف لکھاری کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پیغام جاری کرتے ہوئے شہزاد رائے کا کہنا تھا کہ نعرے “میرا جسم میری مرضی” میں کسی قسم کا کوئی حرج نہیں ہے۔اگر کسی کا جسم ہے تو اس پر مرضی بھی اسی کی ہو گی۔اس لئے اس نعرے پر کسی کا تنقید کرنا بنتا نہیں ہے۔خلیل الرحمان قمر کو کام ملنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے معروف اداکارہ ماہرہ خان نے پیغام جاری کیا ہے کہ مجھے  سمجھ نہیں آتی کہ ایک ایسے شخص کوکام کیسے مل رہا ہے جس نے لائیو شو میں ایک خاتون کو گالی دی۔پروگرام ختم ہونے کے بعد پروگرام کی اینکر نے بھی سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرتے ہوئے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے نہیں علم تھا کہ یہ تنازع اس قدر شدت اختیار کر جائے گا، میں اپنے ناظرین سے معافی مانگتی ہوں۔یاد رہے کہ اس سے قبل ہیومن راٹس کمیشن نے ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر سے معافی کا مطالبہ کردیا۔

معافی کا مطالبہ منگل کی رات نجی چینل پر پروگرام کے دوران خلیل الرحمان اور سماجی کارکن ماروی سرمد کے درمیان جھگڑے پر کیا گیا ۔ہومین راٹس کمیشن نے خلیل الرحمان قمر سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیمرا (پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ) خلیل الرحمان قمر کی بدتمیزی کا نوٹس لے اور ذمہ داروں کو سزا دے۔ ہیومن راٹس کمیشن نے موقف اختیار کیا کہ خلیل الرحمان قمر ماضی میں بھی طاہرہ عبداللہ سے بدتمیزی کر چکے ہیں۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…