ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ہمیں ایسی دنیا میں رہنے کی کیا ضرورت ہے، جہاں حکمران اپنی مرضی سے ہم پر حکومت کر تے ہیں،بالی وڈ کی سابق کشمیری اداکارہ زائرہ وسیم کاکشمیریوں کی حالت زارپردکھ بھرا پیغام

datetime 4  فروری‬‮  2020 |

سرینگر(اے این این)بالی وڈ کی سابق کشمیری اداکارہ زائرہ وسیم نے کشمیر کے باشندوں سے متعلق انسٹا گرام پر ایک پوسٹ تحریر کی ہے جس میں کشمیری عوام کی حالت زار اور ان کے اظہار رائے پر عائد پابندیوں پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔زائرہ نے کشمیر کی زمینی صورتحال کا احاطہ کئی سوالات کی صورت میں کیا ہے اور ان کا جواب طلب کرنے کی کوشش کی ہے۔

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے اپنے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ہمیں ایسی دنیا میں رہنے کی کیا ضرورت ہے، جہاں ہماری زندگیوں اور خواہشوں پر قبضہ کیا جاتا ہے اور حکمران اپنی مرضی سے ہم پر حکومت کر تے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری آواز کو خاموش کرنا اور اظہار رائے کو کم کرنا اتنا آسان کیوں ہے؟۔زائرہ وسیم نے کہا کہ ہمیں اظہار رائے کی آزادی کی اجازت کیوں نہیں ہے، ہمیں اختلاف رائے کا موقع دیا جائے تاکہ ہم اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں۔انہوں نے سوال کرتے ہوئے لکھا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے کہ ہمارے خیالات کی ہر وقت مذمت کی جاتی ہے۔کیا اتنی شدت سے ہماری آواز کو روکنا آسان ہو گیا ہے؟ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے کہا کہ کشمکش اور دنیا کو اپنے وجود کی یاد دلائے بغیر سادہ زندگی کیوں نہیں گزار سکتے؟۔کشمیری اداکارہ نے کہا کہ آخر کیوں کشمیری عوام کی زندگیوں پر بحران، ناکہ بندی اور پریشانی کا سخت تجربہ کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ہمارے دل و دماغ سے معمول اور ہم آہنگی کی شناخت ختم ہو رہی ہے؟پوسٹ میں زائرہ نے دنیا سے حقائق کی غیر منصفانہ نمائندگی پر یقین نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ جموں و کشمیر کے خصوصی درجہ کی 5 اگست سے منسوخی کے بعد کشمیر میں انٹرنیٹ بند رہا۔ 25 جنوری کو وادی کشمیر میں موبائل انٹرنیٹ خدمات بحال کر دی گئیں۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق گذشتہ برس جون میں زائرہ نے فلم انڈسٹری چھوڑنے کے اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے سب کو چونکا دیا تھا کیونکہ وہ کام کے سلسلے سے خوش نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے مذہب سے دور ہوتی جاری ہوں۔زائرہ آخری بار سونالی بوس کی ‘دی اسکائی ایز پنک’ میں نظر آئیں، ان میں اداکارہ پرینکا چوپڑا اور فرحان اختر تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…