بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

جرمن اداکارہ پاکستان کے عشق میں گرفتار اپنا ملک چھوڑ کرمستقل طور پر پاکستان میں رہنے کا فیصلہ

datetime 29  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جرمن کی نامور اداکارہ پاکستان آکر پاکستان کی ہو کر رہ گئیں ۔ جرمن سے تعلق رکھتے والی معروف ماڈل و اداکارہ لیلیٰ داستان کو پاکستان سے عشق ہوگیا ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں تین ماہ قبل پہلی بار فیشن شو میں کیٹ واک کے لیے پاکستان آئی تو یہاں کی ثقافت، کلچر اور لوگوں کا پیار دیکھ کر حیران رہ گئی۔روزنامہ جنگ میں شائع رپورٹ کے مطابق داکارہ لیلیٰ داستان نے کہا کہ

اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اب مجھے اسی ملک میں رہنا ہے، میں نے قلیل عرصہ میں کچھ فیش شوز میں کیٹ واک میں حصہ لیا تو مجھے بہت اچھا لگا، میں پاکستانی دل کش ملبوسات کی دیوانی ہوگئی۔جرمن اداکارہ لیلیٰ داستان ہے ایک سوال کے جواب میں جنگ کو بتایا کہ میں ان دنوں ایک پاکستانی فلم میں کام کررہی ہوں، جاوید شیخ، معمر رانا اور شہروز سبزواری کے ساتھ کام کرنے میں بہت مزا آیا اور ان سے بہت سیکھنے کا موقع ملا۔لیلیٰ داستان نے مذید بتایا کہ میں جرمنی میں پیدا ہوئی، الحمداللّٰہ مسلمان ہوں، پاکستانی ڈرامے اور فلمیں شوق سے دیکھتی ہوں، ان دنوں اردو سیکھ رہی ہوں، مجھے اردو زبان بہت اچھی لگتی ہے، میں نے سنیما میں پاکستانی فلمیں دیکھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے جوانی پھر نہیں آنی، رانگ نمبر اور سپر اسٹار بہت اچھی لگی، مجھے استاد نصرت فتح علی خان، عاطف اسلم، راحت فتح علی خان کا سپر گانا ’محبت بھی ضروری تھی‘ بے حد پسند ہے۔پاکستانی فن کارہ ماہرہ خان، ہانیہ عامر، مہوش حیات، فواد خان اور ہمایوں سعید کی اداکاری نے بہت متاثر کیا۔میں نے اب مستقل کراچی میں رہنے کا فیصلہ کرلیا ہے ، مجھے معروف ڈراما پروڈیوسر سراج الحق بہت سپورٹ کررہے ہیں۔مجھے عالمی دنیا کو پیغام دینا ہے کہ پاکستان ایک پُرامن اور سلامتی والا ملک ہے، یہاں بسنے والے لوگ بہت پیار کرتے ہیں اور اسی وجہ سے میرا پاکستان میں رہنے کا پروگرام بنا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…