جمعہ‬‮ ، 09 جنوری‬‮ 2026 

ڈرامہ ’’ میرے پاس تم ہو‘‘ کی آج آخری قسط ،سب کو بے صبری سے انتظار ،وہ ممکنہ 5 انجام جن پر آج ڈرامے کا اختتام ہوسکتا ہے

datetime 25  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ  ڈیسک)  ڈرامہ سیریل’’میرے پاس تم ہو‘‘ آج شب  آن ائرہو نے جارہی ہے، ہرکوئی اس کا اختتام جاننے کے لیے شش و پنج میں ہے لیکن اب  سما ٹی وی اس کے ممکنہ انجام سامنے لے آیا ہے ۔

پہلا اختتام

دانش کو پسند کرنے والے ذرا دل تھام کر پڑھیں، آخر شرافت بھی کتنی اور کس حد تک دکھائی جائے؟ ہوسکتا ہے کہ مہوش کے بلاوے پر اپنے پرانے فلیٹ میں جانے والا دانش وہاں مہوش کی منتوں ترلوں سے تنگ آکر سوچے ’’نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری‘‘۔ اس کے بعد پہلی گولی مہوش کو مارے اور دوسری اپنی کنپٹی پر ۔ ( جو افراد ڈرامے میں 2 قتل ہونے کے منتظر ہیں، لیں ہو گئے 2 قتل )۔

دوسرااختتام

بقول مصنف ’’ محبت میں بیوفائی نہیں ہوتی اور جہاں بیوفائی ہو وہاں محبت نہیں ہوتی ‘‘ تو خیال کے گھوڑے دوڑانے کے بعد ایک اختام یہ سمجھ میں آتا ہے کہ بیوفائی کرنے پر شہوار کی پرانی حیثیت (معمولی ملازمت، لنچ بکس، آفس وین میں پک اینڈ ڈراپ ) بحال کرنے والی اہلیہ ماہم آخری حربے میں اسے گھر سے نکال باہر کرے گی جس پرشہوار میاں ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہوئے مہوش کو قتل کرنے پہنچ جائیں گے اور ایسا کر گزرنے کے بعد سوچیں گے یہ میں نے کیا کیا؟ اور پھر خود کو بھی اسی پستول سے اوپر پہنچا دیں گے۔ (یہ بھی 2 قتل ہوگئے)۔

تیسرااختتام

ڈرامے کا موضوع ہی محبت اور بیوفائی ہے تو پھر محبت تو قربانی مانگتی ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شہوارمہوش کو قتل کرے اور اسی وقت دانش وہاں پہنچ جائے۔ پہلے ممکنہ اقدام کی معافی مانگے اور پھرصدمے میں کھڑے شہوارکے پستول سے ہی اسے قتل کردے۔

چوتھا اختتام

چوتھا اور سب سے عام اختتام جو کہ سوشل میڈیا پر بھی خوب وائرل ہے، یہ ہوسکتا ہے کہ شہوارکو فلیٹ میں بلا کر مہوش اسے قتل کردے اور دانش یہ الزام اپنے سرلے کر گردن جھکائے جیل چلا جائے۔ رہ گیا رومی تو اس کیلئے ہانیہ ٹیچر ہیں نا۔

پانچواں اختتام

ایک امکان یہ بھی ہے کہ پچھتاوے کا شکار مہوش خود اپنی ہی جان لے لے اور رومی، ہانیہ ٹیچر ہنسی خوشی اور دانش میاں کچھ ملی جلی کیفیت کے ساتھ زندگی بسر کرنے لگیں۔

موضوعات:



کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…