اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

دپیکا پڈکون کو طلبا سے اظہار یکجہتی مہنگا پڑ گیا ، ہندو انتہا پسندوں نےکیا کرنے کا اعلان کر دیا ، اداکارہ مشکل میں پھنس گئیں

datetime 8  جنوری‬‮  2020 |

نئی دہلی( آن لائن ) نامور بالی ووڈ اداکارہ دپیکا پڈوکون کو جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبا سے اظہار یکجہتی کرنا مہنگا پڑگیا سوشل میڈیا پر دپیکا کے خلاف ایک بار پھر بائیکاٹ دپیکا مہم شروع ہوگئی۔5 جنوری کو دہلی کی معروف جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں نقاب پوش ہندو انتہا پسندوں نے جامعہ کے طالب علموں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا یہاں تک کہ اخلاقیات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ہوئے

خواتین کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس میں طلبا یونین کی سربراہ ایشے گھوش سمیت 30 افراد شدید زخمی ہوگئے۔رپورٹس کئے مطابق یونیورسٹی کے طلبا پر حملہ کر نے والے نقاب پوش افراد آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے کارکن تھے جنہیں کیمپس میں موجود راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور بی جے پی کی طلبا تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشاد(اے بی وی پی)کے کارکنوں کی حمایت حاصل تھی۔تاہم گزشتہ روز دہلی پولیس نے تشدد کا نشانہ بننے والے طالب علموں کے خلاف ہی سیکیورٹی گارڈز پر حملہ کرنے اورتوڑ پھوڑ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا۔ طلبا پر نقاب پوش انتہا پسندوں کے حملے کے خلاف نہ صرف طلبا احتجاج کررہے ہیں بلکہ بالی ووڈ اسٹارز نے بھی طلبا پر تشدد کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔گزشتہ روز بالی ووڈ اداکارہ دپیکا پڈوکون جواہر لعل یونیورسٹی کے طلبا کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے احتجاج میں پہنچیں۔ دپیکا کی احتجاج میں شرکت دیکھتے ہی دیکھتے بھارتی ٹوئٹر پر ٹرینڈ بن گیا اور دپیکا کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگیں۔دپیکا کے اس اقدام کو بالی ووڈ کی متعدد شخصیات سمیت دیگر لوگوں کی جانب سے بے حد سراہا جارہا ہے اور لوگ ان کے حق میں ٹوئٹ کرتے ہوئے ان کی بہادری پر داد دے رہے ہیں۔اداکارہ شبانہ اعظمی نے دپیکا کے حق میں ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا جب دپیکا پڈوکون پر ان کی فلمپدماوتکے حوالے سے حملہ ہوا تھا بہت کم لوگ ان کی حمایت میں آگے آئے تھے۔ انہیں معلوم ہے نشانہ بننا کیسا ہوتا ہے اس کے باوجود انہوں نے جواہر لعل نہرو کے طلبا کا ساتھ دے کر بڑی جرات دکھائی ہے۔ دپیکا تم میں اور ہمت آئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…