اتوار‬‮ ، 01 مارچ‬‮ 2026 

اساتذہ اور طلبہ پر تشدد اور ظلم کرنے میں کوئی بہادری اور غیرت نہیں ، جواہرلعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ پرحملے پر بالی ووڈ اداکار مودی حکومت پر برس پڑے

datetime 7  جنوری‬‮  2020 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی مشہور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں 5 دسمبر کو ڈنڈا بردار افراد کے حملے میں زخمی ہونے والے طلبہ و اساتذہ سے متعدد بولی وڈ شخصیات نے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے واقعے پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔

تفصیلات کے مطابق 5 دسمبر کو چہرے پر نقاب اوڑھے متعدد حملہ آور جواہر لعل یونیورسٹی میں گھس گئے تھے اور وہاں پر انہوں نے طلبہ و اساتذہ پر حملے کرکے انہیں زخمی کردیا تھا۔نامور اداکارہ سوارا بھاسکر نے جواہر لعل یونیورسٹی پر حملے کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے واقعے کو آر ایس ایس کی دہشت گردی قرار دیا۔سوارا بھاسکر ویڈیو میں انتہائی جذباتی دکھائی دیں اور انہوں نے نوجوان طلبہ کی آواز کو نقاب پوش اور ہتھوڑا بردار افراد کے زور پر دبانے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔بالی وڈ کی خوبرو اداکارہ کریٹی سونن نے بھی طلبہ پر تشدد پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ واقعے نے انہیں شدید دلی صدمہ پہنچایا۔اداکارہ نے لکھا کہ آج کل بھارت میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ انتہائی خوفناک ہے ، منظم دہشت گردوں کے ذریعے طلبہ اور اساتذہ کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، انہوں نے غنڈہ گردی کی سیاست ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ماضی کی مست گرل روینہ ٹنڈن نے بھی جواہر لعل یونیورسٹی کے طلبہ پر حملے کی مذمت کی اور انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں حملے سے متعلق ایک خبر کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ بھارت ایک ایسا ملک بن چکا ہے جہاں طلبہ سے زیادہ گائے کا خیال رکھا جاتا ہے۔

لیجنڈ اداکارہ شبانہ اعظمی نے سوارا بھاسکر کی ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے جواہر لعل یونیورسٹی کے طلبہ پر تشدد کی سخت مذمت کی اور کہا کہ بات صرف مذمت سے نہیں چلے گی بلکہ واقعے میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جائے۔فلم ساز وشال بھردواج نے بھی طلبہ پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے ایک شعر لکھا کہ ظلم بڑھاؤ ابھی تمہارے ظلموں کو، حد سے باہر بھی ہوجانا لازمی ہے۔

بالی وڈ اداکارہ نیہا دھوپیا نے بھی یونیورسٹی طلبہ پر نقاب پوش حملہ آوروں کے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کا تشدد نا قابل قبول ہے، انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ آخر کار ایسے اندوہناک واقعے کا خاتمہ کب ہوگا؟کامیڈین رتیش دیش مکھ نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حملہ آوروں کے لیے لکھا کہ انہوں نے اسی لیے ہی نقاب پہن رکھا ہے کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ وہ غیر انسانی اور غیر قانونی کام کر رہے ہیں۔

اداکار نے مزید لکھا کہ اساتذہ اور طلبہ پر تشدد اور ظلم کرنے میں کوئی بہادری اور غیرت نہیں ہے۔خوبصورت اداکارہ تپسی پنو نے بھی واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور اسے باقی ملک کے افراد کے لیے خوفناک قرار دیا۔اداکارہ نے لکھا کہ یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ طلبہ پر حملہ کیا گیا اور اس واقعے سے ملک میں خوف پھیلے گا۔اداکارہ کونکنا سین شرما نے یونیورسٹی پر کیے گئے حملے سے متعلق سوالات اٹھائے اور پوچھا کہ آخر پولیس طلبہ کو تحفظ فراہم کرنے میں کیوں ناکام ہوئی؟اداکارہ نے یہ بھی پوچھا کہ نقاب پوش حملہ اذور کون تھے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…