اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

زندگی پریشانیوں میں گر گئی تھی پھر اچانک ایسا کیا ہوا کہ میر ی قسمت جاگ اٹھی ؟ معروف پاکستانی اداکارہ کبریٰ خان نے حیران کن انکشاف کر دیا

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

لندن(این این آئی) اداکارہ کبریٰ خان نے کہا ہے کہ وہ مرتے وقت اپنے رب کا سامنا کرنے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہتیں۔’’جوانی پھر نہیں آنی 2‘‘اور پرواز ہے جنوں‘‘جیسی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی اداکارہ کبریٰ خان کو شوبز انڈسٹری میں بہت جلد مقبولیت حاصل ہوگئی۔ ان دنوں ان کا ڈراما ’’الف‘‘ نجی چینل سے نشر کیا جارہا ہے جس میں وہ حسن جہاں نامی خاتون کا کردار نبھارہی ہیں۔ حال ہی میں کبریٰ خان نے

اپنے ایک انٹرویو میںاپنے ڈرامے’’الف‘‘اوراپنی زندگی میں ہونے والی تبدیلیوں کے متعلق گفتگو کی۔کبریٰ خان نے بتایا کہ ڈراما ’’الف‘‘ اللہ کا ان کے لیے تحفہ ہے اوریہ ڈراما اس وقت ان کے پاس آیا جب وہ اپنی زندگی میں پریشان تھیں اور لوگوں کو خود سے دور کررہی تھیں۔ یہاں تک کہ وہ یہ سوچنے لگی تھیں کیا وہ اس انڈسٹری کا حصہ بننا چاہتی ہیں؟اپنی زندگی میں رونما ہونے والی مثبت تبدیلیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کبریٰ خان نے کہا کہ ہر انسان اپنی زندگی میں ایسی صورت حال سے دوچار ہوتا ہے جو اس کی زندگی میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔ وہ آج جوبھی ہیں اور جیسی بھی ہیں، اس پر خوش ہیں لیکن وہ اس سے بھی بہتر بننے کی کوشش کررہی ہیں۔ تاہم وہ ماضی کے مقابلے میں ا?ج زیادہ پرسکون ہیں۔کبریٰ خان نے کہا کہ ایک وقت تھا کہ انڈسٹری میں کام کرتے ہوئے مجھے خواہش تھی کہ میرے ڈرامے دیگر لوگوں سے زیادہ پسند کیے جائیں بعد ازاں میں نے سوچا کہ میرا کسی سے کوئی مقابلہ نہیں اور میں آج جو بھی ہو اس پر مطمئن ہوں۔ میں آج 50 ایوارڈز حاصل کرسکتی ہوں، آسکر حاصل کرسکتی ہوں لیکن اگر میں اچھی انسان نہیں تو اس سب کا کوئی مطلب نہیں ۔کبریٰ خان نے کہا کہ انہیں گزشتہ برس اپنے اندر آنے والی روحانی تبدیلیوں کا احساس ہوا جس کے بعد ان کی زندگی اور سوچ میں تبدیلی آنی شروع ہوئی۔ پیسہ اور مادیت پسندی ہاں یہ سب دنیا کا حصہ ہیں لیکن مجھے احساس ہوا کہ میں ان چیزوں کو

اپنے ساتھ کہیں بھی نہیں لے جاسکتی۔ ان ایوارڈز کی خدا کے سامنے کوئی اہمیت نہیں اور شاید اسی سوچ کی وجہ سے مجھے احساس ہوا کہ بستر مرگ پر میں اپنے رب کے سامنے جاتے ہوئے خوفزدہ نہیں ہونا چاہتی۔ڈراما سیریل ’’الف‘‘میں اپنے کردار حسن جہاں کے بارے میں بتاتے ہوئے کبریٰ خان نے کہا کہ ان کے پاس جب اسکرپٹ آیا تو انہیں حسن جہاں کے کردار سے محبت ہوگئی کیونکہ بہت ساری جگہوں پر

ان کی زندگی حسن جہاں کے کردار سے جڑتی ہے۔ لوگ شوبز میں کام کرنے والوں کی زندگیوں کے بارے میں نہیں جانتے کوئی نہیں جانتا ہم اپنی نجی زندگی میں کیسے ہیں، کتنی عبادت کرتے ہیں، ہمارا اللہ سے تعلق کیسا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ لوگوں کو ہمارے بارے میں یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ ان کا تعلق شوبز سے ہے تو یہ غلط ہیں کرپٹ ہیں، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ مثال کے طور جیسے سیاستدانوں کے بارے میں لوگ سوچتے ہیں کہ یہ سیاست

میں ہے تو غلط ہے بالکل اسی طرح کی لوگوں کی سوچ شوبز سے وابستہ لوگوں کے بارے میں بھی ہے۔کبریٰ نے کہا مجھے فن سے محبت ہے۔ میں آج بھی مغربی انداز کے کپڑے پہنتی ہوں، میوزک سنتی ہوں لیکن جب تک ا?پ کی نیت صحیح ہے اور آخر میں اگر سب کچھ ٹھیک رہا اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں اپنی زندگی میں توازن برقرار رکھ سکی تو ٹھیک ورنہ شاید میں یہ سب چھوڑ کر کہیں اور چلی جاؤں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…