اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

دوستی وہی ہوتی ہے جو کسی غرض کی ملاوٹ سے پاک ہو : ریشم

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی)نامور اداکارہ ریشم نے کہا ہے کہ دوستوں سے ملنا اور انہیں دعوت پر مدعو کرنا اچھا لگتا ہے ، دوستی وہی ہوتی ہے جو کسی غرض کی ملاوٹ سے پاک ہو ،دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ نئے سال میں پاکستان اور فلم انڈسٹری کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی دے ۔ ایک انٹر ویو میں ریشم نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ کسی فلم میں نظر نہیں آرہی تو شوبز سر گرمیاں ختم ہو گئی ہیں بلکہ مختلف طرح کے پراجیکٹس چل رہے ہیں ۔ جب بھی مجھے ایسا کردار ملا جس میں مجھے اپنے لئے مارجن نظر آیا تو ضرور کام کروں گی ۔ ریشم نے کہا کہ

مجھے دوستوں سے ملنا او رانہیں دعوت پر مدعو کرنا اچھا لگتا ہے اور خود بھی دوستوں کی دعوت پر جاتی ہوں، میرے دوستوں میںاکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن کی دوستی کسی غرض کی ملاوٹ سے پاک ہے اور میں اس لحاظ سے خود کو خوش قسمت سمجھتی ہوں او رمجھے اپنے حلقہ احباب میں شامل لوگوں پر فخر ہے ۔ریشم نے کہاکہ فلم انڈسٹری کی ترقی کیلئے جس رفتار کی ضرورت ہے ابھی وہ رفتار تو نہیں لیکن میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ 2020ء میں پاکستان اورفلم انڈسٹری کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی دے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…