پیر‬‮ ، 02 مارچ‬‮ 2026 

پروین شاکر کی 67ویں سالگرہ پر گوگل کا خراج تحسین

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی) خوشبوؤں، خوابوں اور محبتوں کو اپنی شاعری کے قالب میں ڈھالنے والی پروین شاکر کی 67 ویں سالگرہ پر گوگل نے انہیں ڈوڈل کے ذریعے خراج تحسین پیش کیا ہے۔24 نومبر 1954 کو کراچی میں پیدا ہونے والی پروین شاکرنے جس گھر میں آنکھ کھولی وہ صاحبان علم کا خانوادہ تھا۔ ان کے خاندان میں کئی نامور شعرا اور ادبا پیدا ہوئے جس کی وجہ سے وہ اپنے گھر میں ہی کئی شعراء کے

کلام سے روشناس ہوئیں۔ جامعہ کراچی سے انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہوگئیں تاہم بعد میں انہوں نے سرکاری ملازمت اختیار کرلی اور ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ انتہائی کم عمری میں ہی انہوں نے شعر گوئی شروع کردی تھی۔انھیں شاعری کی پہلی کتاب ’’خوشبو‘‘ پرآدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان کے دیگر شعری مجموعے خود کلامی، صد برگ، انکار، ماہ تمام اور کف آئینہ کو بھی بے پناہ پذیرائی حاصل ہوئی۔ اردو لہجے کی منفرد شاعرہ ہونے کی وجہ سے پروین شاکر کو بہت ہی کم عرصے میں شہرت حاصل ہو گئی۔ پروین شاکر کے لیے ایک انوکھا اعزاز یہ بھی تھا کہ 1982 میں جب وہ سینٹرل سپیریئر سروسز کے امتحان میں بیٹھیں تو اردو کے امتحان میں ایک سوال ان کی شاعری سے ہی متعلق تھا۔پروین شاکرکی پوری شاعری ان کے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار ہے تاہم یہ پوری ایک نسل کی نمائندگی کرتی ہے کیونکہ ان کی شاعری کا مرکزی نکتہ عورت ہے۔ ان کے کلام میں ایک نوجوان دوشیزہ کے شوخ و شنگ جذبات کا اظہارہے تو زندگی کی سختی کا اظہار بھی ملتا ہے۔پروین شاکر کے اشعار میں لوک گیت کی سادگی جبکہ نظموں اورغزلوں میں بھولے پن اور نفاست کا دل آویزسنگم ہے۔ ان کی شاعری میں احساس کی جو شدت ہے وہ ان کی دیگر ہم عصر شاعرات کے یہاں نظر نہیں آتی۔ انہوں نے زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کو نہایت خوبصورتی سے لفظوں کے قالب میں ڈھالا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…