اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

سونو نگھم نے حالیہ صورتحال میں جشن منانے والے بھارتیوں کو شرمندہ کر دیا

datetime 2  مارچ‬‮  2019 |

نئی دہلی (آن لائن)گذشتہ روز بھارتی پائلٹ ابھینندن کو پاکستان سے رہا کر دیا گیا۔بھارت اپنی شکست تسلیم کرنے کی بجائے اس پر جشن منا رہا ہے لیکن سونو نگھم نے بھارتی پائلٹ کی رہائی پر جشن منانے والوں کو شرمندہ کر دیا۔اسی حوالے سے بھارتی کے معروف گلوکار سونو نگھم کا کہنا ہے کہ ہمارے دیس بہت مشکل وقت سے گزر رہا ہے۔میں کبھی بھی جنگ کی حمایت نہیں کرتا۔

چاہے لوگ کچھ بھی کہیں تو میں جنگ کرنے کی حمایت بلکل بھی نہیں کروں گا۔،لیکن اب جو حالات چل رہے ہیں تو اس صورت میں ملک جو بھی کرے گا ہم اس کے ساتھ ہیں۔سونو نگھم نے مزید کہا کہ میں ایک بات کہوں گا تم لوگوں کو کہ پٹاخے بجانا نہ شروع کر دیا کرو،ابھی پہلی بار کچھ ہوا ہے یا نہیں اور تم لوگوں نے پٹاخے بجانا شروع کر دئیے ہیں اور انڈیا انڈیا کے نعرے لگانا شروع کر دئیے ہیں۔بھارت میں لوگ طرح طرح کے ٹویٹس کر کے پاکستانیوں کو چڑھا رہے ہیں لیکن اگر آپ چڑھاؤ گے تو پھر وہ بھی چڑھ کر آئیں گے۔کیونکہ پھر وہ لوگ غصے میں آکر اپنے ملک میں “شیم شیم” کے نعرے لگائیں گے تو مجبورا ان کو بھی ہم پر حملہ کرنا پڑے گا تو اس لیے جشن منانے کا کوئی تک نہیں بنتا۔سونو نگھم نے مزید کہا کہ بھارت پہلی گیند مارتے ہی کہتے ہیں کہ ہم جیت گئے ہیں۔یہ بھارت کی بہت احمقانہ بات ہے ایک اچھا ملک تمیز سے رہتا ہے۔ٹی وی پر جو بھی چل رہا ہے وہ انتہائی مضحکہ خیز ہیں۔کسی کی موت پر جشن نہیں منانا چاہئیے چاہے وہ ہمارے ملک کے ہوں یا کسی اور کے پر ہیں تو کسی کے بچے نہ اس لیے انڈیا کو اس تمام صورتحال میں مہذب لوگوں کی طرح برتا کرنا چاہئیے،سونو نگم نے مزید کہا کہ ہمیں ایک ذمہ دار میڈیا کی ضرورت ہے جو کہ ہمارے پاس نہیں ہے۔انہوں نے بھارتی پائلٹ کی رہائی کے اقدام کو بھی سراہا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…