منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

ایکٹر ہونے کی قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے ٗمیرے والد شترو گھن کو مجھ پر فخر ہے ٗ سوناکشی سہنا

datetime 25  اگست‬‮  2018 |

ممبئی (شوبز ڈیسک)انڈین فلموں میں شوٹ گن کے نام سے مشہور اداکار شترو گھن سنہا کی بیٹی سوناکشی سنہا نے کہاہے کہ ایکٹر ہونے کی قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔ایک انٹرویومیں بھارتی ادا کارہ نے کہاکہ اداکار ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے ہنر کے ذریعے بہت بڑی آبادی تک کوئی بھی بات پہنچا سکتے ہیں۔ لوگ آپ کی بات سنتے اور آپ کی باتوں پر غور بھی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ آپ اپنی اس حیثیت کو لوگوں تک اچھی باتیں پہنچانے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں لیکن اس پیشے کے نقصانات بھی ہیں۔سوناکشی نے کہا کہ بطور ایک اداکارہ وہ مسلسل لوگوں کی نظروں میں رہتی ہیں اور یہ اس پیشے کا سب سے بڑا نقصان ہے۔ عوام اداکاروں پر ہر وقت نظر رکھتی ہے اور یوں ان کی آزادی چھن رہی ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اداکار ہمیشہ اپنی مرضی سے کام نہیں کر سکتے کیونکہ لوگ ان پر مسلسل نظر رکھتے ہیں ٗاگرچہ یہ ان کی نجی زندگی میں مداخلت ہے لیکن لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے ہیں۔سوناکشی کے مطابق آج بالی وڈ میں ان کا جو مقام ہے اس کے لیے ان کے والد شترو گھن سنہا کو ان پر بہت فخر ہے۔انہوں نے کہاکہ پہلے جب وہ کہیں جاتی تھیں تو لوگ ان سے پوچھتے تھے کہ کیا وہ شترو گھن سنہا کی بیٹی ہیں تاہم اب اکثر ان کے والد سے کہا جاتا ہے کہ وہ سوناکشی کے والد ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ ہوائی جہاز کے سفر کے دوران ایسا ہوا کہ ایئر ہوسٹس نے آ کر ان سے کہا کہ سر میں آپ کو جانتی ہوں ٗ آپ سوناکشی سنہا کے والد ہیں۔سوناکشی نے کہا کہ وہ دیسی لڑکی کے کردار میں خود کو بہتر محسوس کرتی ہیں ٗ وہ خود دل سے ایک دیسی لڑکی ہیں اور انھیں دیسی کپڑے پہننا اور پنجابی گانوں پر رقص کرنا بہت پسند ہے۔سوناکشی نے کہا کہ انھیں زیادہ مزالٹیرا اوردبنگ جیسی فلموں کر کے آتا ہے۔سوناکشی سنہا کی رواں ہفتے نئی فلم ریلیز ہوئی ہے جس کا نام ہے ہیپی پھر بھاگ جائے گی۔ یہ ایک مزاحیہ فلم ہے اور سوناکشی کے مطابق وہ خود اصل زندگی میں اس کردار جیسی ہی ہیں۔انھوں نے بتایا کہ وہ ہمیشہ خوش رہنے کی کوش کرتی ہیں ٗانھیں لوگوں کو ہنسانا آتا ہے تاہم فلمی ناقدین کو سوناکشی کی یہ فلم پھیکی لگی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…