ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ملازمہ پر تشدد میں ملوث جج اور بیوی روپوش ہوگئے

datetime 27  جولائی  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ 13سالہ ملازمہ پر مبینہ تشدد میں ملوث جج اور ان کی اہلیہ روپوش ہوگئے ہیں جس کی وجہ کیس کی تحقیقات میں تعطل پیدا ہوگیا ہے۔پولیس افسران کے مطابق پولیس ٹیموں نے اسلام آباد اور لاہور میں جج کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے تاہم دونوں گھروں پر تالے لگے ہوئے ملے۔افسران کے مطابق پولیس کے اعلیٰ حکام نے تاحال یہ فیصلہ نہیں کیا کہ اس کیس کی تفتیش پولیس اسٹیشن کی سطح پر کی جائے یا اینٹی ریپ (انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) ایکٹ 2021 کے تحت اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے ذریعے کرائی جائے۔

انہوںنے کہاکہ متعلقہ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) نے تاحال کیس کی تفصیلات اور زونل پولیس کو دستیاب دستاویزات تفتیشی ونگ کے ساتھ شیئر نہیں کیں، اس لیے تفتیش میں تاخیر کا سامنا ہے۔ملازمہ کے والد منگا خان کی شکایت اور میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ جس میں گلا گھونٹنے کے نشانات سمیت لڑکی کے جسم پر 15 زخموں کا ذکر ہے، وہ سرگودھا پولیس نے کیپٹل پولیس کو فراہم کیا لیکن مشتبہ شخص پر گلا گھونٹنے، تشدد کرنے اور زخمی کرنے سے متعلق دفعات نہیں لگائی گئیں۔سرگودھا پولیس کی جانب سے متعدد درخواستوں کے بعد کیپٹل پولیس نے ایک کمزور ایف آئی آر درج کی۔

مقدمہ ہمک پولیس اسٹیشن میں لڑکی کے والد کی شکایت پر درج کیا گیا، شکایت کنندہ پیشے کے لحاظ سے مزدور ہے۔ایف آئی آر کے مطابق اس نے اپنی بیٹی کو 10 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر ایک جاننے والے کے ذریعے زرتاج ہاؤسنگ سوسائٹی میں جج کے گھر بھیجا۔23 جولائی کو وہ اپنی بیوی اور ایک رشتے دار کے ہمراہ بیٹی سے ملنے جج کے گھر گیا تو بیٹی کو زخمی حالت میں ایک کمرے میں روتے ہوئے پایا۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ اس کے سر پر نظر آنے والے زخموں کے علاوہ چہرے، بازوؤں اور ٹانگوں پر بھی زخم تھے، اس کا دانت ٹوٹا ہوا تھا، ہونٹ اور آنکھوں پر سوجن تھی۔

پوچھنے پر لڑکی نے اپنے گھر والوں کو بتایا کہ جج کی اہلیہ اسے روزانہ ڈنڈے اور چمچے سے مارتی تھی اور رات کا کھانا نہیں دیتی تھی۔ایک پولیس افسر نے بتایا کہ نہ صرف نابالغ کو گھریلو ملازمتوں کیلئے رکھنا جرم ہے بلکہ حقائق چھپانا بھی جرم ہے، لڑکی کو مبینہ طور پر جج کے گھر میں حراست میں رکھا گیا، اس پر تشدد کیا گیا لیکن جج نے اسے ریسکیو کرنے یا اپنی بیوی کے تشدد سے بچانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔

دوسری جانب پولیس نے اپنے آفیشل ٹوئٹر پیچ پر دعویٰ کیا کہ خاتون ملزمہ کو گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔پولیس نے دعویٰ کیا کہ کیس کی تفتیش میرٹ پر کی جائے گی، قانون سب کے لیے برابر ہے اس لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔کیس کے متعلقہ افسر اور اسلام پولیس کے ترجمان متعدد مرتبہ کی گئی کوشش کے باوجود معاملے پر رد عمل دینے کے لیے دستیاب نہیں تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…