پیر‬‮ ، 02 ‬‮نومبر‬‮ 2026 

عدالت کا ڈیلی ویجز ملازمین کے حق میں بڑا فیصلہ

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2026 |

لاہور(این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے ڈیلی ویجز ملازمین کے حق میں اہم فیصلہ کرتے ہوئے اہل ملازمین کو مستقل ورکرز کا قانونی درجہ دیدیا

جبکہ پنجاب کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز میں کام کرنے والے اہل ڈیلی ویجز، ورک چارجڈ اور کنٹیجنٹ پیڈ ملازمین کو مستقل نہ کرنے سے متعلق پنجاب حکومت کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیکر کالعدم قرار دیدیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد اسحاق نے محمد بلال رضا و دیگر کی درخواستوں سمیت ملازمین کی 26 آئینی درخواستوں پر 26 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا، جسٹس خالد اسحاق نے فیصلے میں لکھا کہ مستقل نوعیت کے کام پر مسلسل نو ماہ سے زائد خدمات انجام دینے والے اہل ملازمین مستقل ورکرز قرار پانے کے حق دار ہیں۔پنجاب حکومت کی 2021 کی پالیسی کا اطلاق ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز پر بھی ہوگا اور مستقل ورکرز کا قانونی درجہ حاصل کرنے کیلئے الگ سے نوٹیفکیشن جاری کرنا ضروری نہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز خودمختار ادارے ہونے کی بنیاد پر حکومتی پالیسی کے اطلاق سے انکار نہیں کر سکتیں، ملازمین کی بار بار 89 روزہ تقرریاں مستقل نوعیت کے کام کی حقیقت تبدیل نہیں کر سکتیں، ملازم کی قانونی حیثیت کا تعین تقرری کے نام سے نہیں بلکہ کام کی نوعیت اور مدت سے کیا جائے گا۔فیصلے میں کہا گیا کہ ایک جیسے حالات میں کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ مختلف سلوک آئین کے آرٹیکل 25 کے منافی ہو سکتا ہے، بعض ملازمین کو مستقل ورکرز کا درجہ دینا جبکہ دیگر کو اس حق سے محروم رکھنا امتیازی سلوک ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ ملازمین کو زبانی احکامات کے ذریعے ملازمت سے فارغ کرنا قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں، ملازمت ختم کرنے کے لیے تحریری حکم جاری کرنا اور اس کی وجوہات بیان کرنا ضروری ہے جبکہ کسی ملازم کے خلاف منفی کارروائی سے قبل اسے اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع دینا بھی لازم ہے۔

فیصلے کے مطابق انڈسٹریل اینڈ کمرشل ایمپلائمنٹ (سٹینڈنگ آرڈرز) 1968 کے تحت قانونی شرائط پوری کرنے والے ملازمین مستقل ورکرز کے حقوق اور قانونی تحفظات حاصل کرنے کے حق دار ہیں، اس میں ڈیٹا انٹری آپریٹرز، سینیٹری ورکرز اور دیگر اہل ملازمین بھی شامل ہیں۔عدالت نے واضح کیا کہ ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل ورکرز کا قانونی درجہ دینے کا مطلب انہیں سول سرونٹ کی حیثیت سے مستقل کرنا یا سول سروس میں خودکار ریگولرائزیشن نہیں ہے، بلکہ انہیں سٹینڈنگ آرڈرز 1968 کے تحت مستقل ورکرز کے حقوق اور قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Mind The Gape


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مہاراجہ ہری سنگھ کے جواہرات

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مرنے کے علاوہ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

درگزر کیا کریں

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…