اسلام آباد (نیوز ڈیسک)عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں امن مذاکرات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی توقعات ہیں۔
سفارتی کوششوں کے امکانات سے خطے میں کشیدگی اور تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات میں کسی حد تک کمی آئی ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، جمعرات کو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گزشتہ روز کے اضافے کے بعد کم ہوگئیں۔ عالمی معیار برینٹ کروڈ کے مستقبل کے سودوں میں 1.22 ڈالر، یعنی 1.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد فی بیرل قیمت 114.10 ڈالر ہوگئی۔امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت میں بھی کمی ہوئی۔ اس کے نرخ 1.33 ڈالر یا 1.3 فیصد گر کر 101.45 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔اس سے قبل بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا، جب برینٹ کروڈ 1.3 فیصد مہنگا ہوا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کے نرخوں میں 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ امن مذاکرات نے عالمی تیل کی منڈی میں قیمتوں پر دباؤ کم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ تاہم خطے کی غیر یقینی صورت حال اور تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات اب بھی برقرار ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کا دارومدار مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورت حال، رسد کے تسلسل اور سفارتی کوششوں کے نتائج پر ہوگا۔ خطے میں کشیدگی بڑھنے یا تیل کی ترسیل متاثر ہونے کی صورت میں قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ امن مذاکرات میں مثبت پیش رفت سے سپلائی کے خدشات کم ہونے اور مارکیٹ میں استحکام آنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔



















































