اسلام آباد (نیوز ڈیسک)اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے انعامی بانڈز کی قرعہ اندازی کے طریقہ کار اور شفافیت سے متعلق تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردی ہیں۔
مرکزی بینک کے مطابق 25 ہزار اور 40 ہزار روپے مالیت کے انعامی بانڈز کی قرعہ اندازی میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے خصوصی بچوں کی خدمات لی جاتی ہیں۔قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران اسٹیٹ بینک کی جانب سے فراہم کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ قرعہ اندازی کے مختلف مراحل کی نگرانی سات ارکان پر مشتمل کمیٹی کرتی ہے، جس کا مقصد پورے عمل کو شفاف اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔رپورٹ کے مطابق قرعہ اندازی میں کامیاب ہونے والے نمبروں کو ظاہر کرنے اور انہیں ریکارڈ پر لانے کی ذمہ داری بھی خصوصی بچے انجام دیتے ہیں۔
اس عمل کی نگرانی کے لیے قائم کمیٹی تمام مراحل پر نظر رکھتی ہے تاکہ نتائج کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق انعامی بانڈز کی قرعہ اندازی کے نظام پر عوام کا اعتماد برقرار ہے اور اس حوالے سے اب تک کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔پاکستان میں انعامی بانڈز کو بچت اور انعام جیتنے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ شہری ان بانڈز میں رقم لگاتے ہیں اور قرعہ اندازی کے ذریعے انعام حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں۔ اس لیے قرعہ اندازی کے عمل میں شفافیت اور نتائج پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنا اس نظام کی اہم ضرورت ہے۔



















































