اسلام آباد (نیوز ڈیسک) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے شہریوں کو عوامی مقامات پر دستیاب مفت وائی فائی استعمال کرتے ہوئے محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ غیر محفوظ انٹرنیٹ کنکشن کے ذریعے صارفین کی نجی معلومات، پاس ورڈز اور آن لائن اکاؤنٹس سائبر مجرموں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔این سی سی آئی اے کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیجیٹل آلات کو پبلک وائی فائی سے منسلک کرنے سے پہلے نیٹ ورک کی ساکھ اور سیکیورٹی کے بارے میں اطمینان کرلینا چاہیے۔ بالخصوص ایسے کنکشنز سے گریز کیا جائے جن کی اصلیت کی تصدیق ممکن نہ ہو۔ایجنسی کے مطابق سائبر جرائم میں ملوث افراد لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے معروف ہوٹلوں، کیفے، کاروباری مراکز اور مقامی دکانوں کے ناموں سے ملتے جلتے جعلی وائی فائی نیٹ ورکس تیار کرتے ہیں۔ صارفین بظاہر اصلی دکھائی دینے والے ان کنکشنز سے منسلک ہوکر اپنی حساس معلومات خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
این سی سی آئی اے نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ غیر تصدیق شدہ وائی فائی کے ذریعے بینکنگ، رقم کی منتقلی اور آن لائن خریداری جیسے مالی معاملات انجام نہ دیں۔ غیر محفوظ نیٹ ورکس کے ذریعے ہیکرز صارفین کے پاس ورڈز اور بینکنگ سے متعلق اہم تفصیلات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ ہوٹلوں، کیفے اور دیگر عوامی مقامات پر وائی فائی استعمال کرنے سے پہلے وہاں کے عملے سے نیٹ ورک کے درست نام کی تصدیق کی جائے۔ حساس مالی لین دین کے لیے موبائل ڈیٹا کو ترجیح دی جائے، جبکہ کسی بھی مشکوک وائی فائی کنکشن کا شبہ ہونے پر اس سے فوری طور پر رابطہ منقطع کرلیا جائے۔دوسری جانب این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر اور لاہور زون کے سربراہ ایس پی عاطف عامر نے بھی سائبر جرائم اور غیر قانونی آن لائن مواد کی ترسیل کے حوالے سے شہریوں کو خبردار کیا ہے۔
عاطف عامر کے مطابق ایجنسی سائبر کرائم کے واقعات کی تحقیقات، متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطوں اور غیر قانونی مواد کی نشاندہی کے لیے جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے بھی مدد لے رہی ہے۔انہوں نے خصوصی طور پر خبردار کیا کہ موبائل فون میں بچوں سے متعلق نامناسب مواد محفوظ کرنا یا اسے دوسروں تک پہنچانا سنگین قانونی نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو چاہیے کہ اگر انہیں ایسا مواد نظر آئے تو اسے آگے بھیجنے یا شیئر کرنے کے بجائے متعلقہ حکام کو اطلاع دیں، تاکہ اس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ممکن ہو۔



















































