اسلام آباد (نیوز ڈیسک) کویتی حکام نے ملازمین کو بروقت تنخواہیں فراہم کرنے کے لیے نگرانی سخت کرتے ہوئے نیا الیکٹرانک نظام متعارف کرایا ہے،
جس کے ذریعے کمپنیوں کی جانب سے ادائیگیوں کے پورے عمل کا جائزہ لیا جائے گا۔
حکام کے مطابق 8 ہزار 849 آجرین کی فائلوں میں تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق مسائل سامنے آئے ہیں، جس کے بعد ادائیگیوں کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔
نئے الیکٹرانک نظام کے تحت یہ جانچا جائے گا کہ کمپنی نے تنخواہوں کی ادائیگی کی درخواست کب جمع کرائی، بینک نے ملازمین کے کوائف کی تصدیق کیسے کی اور رقم ملازمین کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوئی یا نہیں۔
اس نظام میں آٹھ مراحل شامل ہیں۔ ابتدا میں کمپنی تنخواہوں کی ادائیگی کی درخواست جمع کرائے گی، جس کے بعد مرکزی بینک اور متعلقہ بینک ملازمین کی تفصیلات کی جانچ کریں گے۔ معلومات درست ہونے پر ادائیگی کی جائے گی اور اس کی رپورٹ الیکٹرانک طریقے سے متعلقہ اتھارٹی کو بھیج دی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام سے تنخواہوں کی ادائیگی کا ریکارڈ جانچنے میں آسانی ہوگی، کاغذی کارروائی کم ہوگی اور بروقت تنخواہ نہ ملنے والے ملازمین کی نشاندہی بھی ممکن ہو سکے گی۔
دوسری جانب پبلک اتھارٹی فار مین پاور (پی اے ایم) نے واضح کیا ہے کہ کمپنیاں ملازمین کی تنخواہوں سے من مانے طریقے سے کٹوتیاں نہیں کر سکتیں۔ اس مقصد کے لیے 13 جائز وجوہات مقرر کی گئی ہیں، جن میں بلا معاوضہ چھٹی، بیماری کی چھٹی، بچوں کی دیکھ بھال کے لیے چھٹی، کام سے معطلی، بغیر اجازت کام کی جگہ چھوڑنا، کام سے انکار اور غیر حاضری شامل ہیں۔
قواعد کے مطابق تنخواہ سے کٹوتی کرنے والی کمپنی کو اس کی وجہ کا ثبوت اور متعلقہ دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی۔ کسی بھی ملازم کی ایک ماہ کی تنخواہ سے زیادہ سے زیادہ 25 فیصد رقم کاٹی جا سکتی ہے، جبکہ مقررہ حد سے تجاوز کی اجازت نہیں ہوگی۔
کویتی حکام کے ان اقدامات کا مقصد ملازمین کے حقوق کا تحفظ، تنخواہوں کی بروقت ادائیگی یقینی بنانا اور کمپنیوں کو متعلقہ قوانین کا پابند بنانا ہے۔



















































