اسلام آباد (نیوز ڈیسک) تہران میں مہنگائی کا بوجھ کم کرنے کے لیے حکومت نے ضروری اشیاء مقررہ نرخوں پر فراہم کرنے کا منصوبہ شروع کردیا،
ابتدائی طور پر 12 اشیا کی قیمتیں 6 ماہ تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ایران میں عوام کو بنیادی ضروریات کی اشیاء سستے داموں فراہم کرنے کے لیے زیرو انفلیشن اسکیم پر عملدرآمد شروع ہوگیا ہے۔ تہران کے میئر علی رضا زاکانی کے مطابق اس منصوبے کے تحت 12 بنیادی اشیا کی قیمتوں میں آئندہ چھ ماہ تک اضافہ نہیں کیا جائے گا۔علی رضا زاکانی نے بتایا کہ گھرانے کے افراد کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے فی کس مخصوص کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ شہریوں کو مقررہ نرخوں پر اشیائے خورونوش دستیاب ہوں گی تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جاسکے۔منصوبے کے تحت ہر شہری کو ماہانہ 2 کلوگرام چاول مقررہ قیمت پر خریدنے کی اجازت ہوگی، جبکہ صارفین کو چاول کی تین مختلف اقسام میں سے انتخاب کا اختیار بھی دیا جائے گا۔ اسی طرح فی فرد ماہانہ 400 گرام کوکنگ آئل کا کوٹہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔
تہران کے میئر نے مزید اعلان کیا کہ اکتوبر سے سبسڈی کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے گا۔ اس مرحلے میں موجودہ 12 اشیا کی فہرست میں مزید تین مصنوعات شامل کی جائیں گی، جن میں مرغی کا گوشت، ٹماٹر پیسٹ اور پنیر شامل ہیں۔ اس طرح سبسڈائز اشیا کی مجموعی تعداد 15 ہوجائے گی۔انہوں نے بتایا کہ شہریوں کو تازہ پھل اور سبزیاں مناسب نرخوں پر فراہم کرنے کے لیے منڈیوں اور متعلقہ مراکز کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے موجودہ 108 مراکز کو بڑھا کر 200 سے زیادہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔تہران کے میئر کے مطابق زیرو انفلیشن اسکیم کا بنیادی مقصد شہریوں کو روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء مقررہ قیمتوں پر فراہم کرنا اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات سے عام گھرانوں کو ممکنہ حد تک ریلیف دینا ہے۔



















































