منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

مدینہ منورہ میں حیران کن ذخائر دریافت

datetime 15  ستمبر‬‮  2026 |

ریاض (این این آئی)مشرقِ وسطی کی پیچیدہ اور کشیدہ سیاسی صورتِ حال کے دوران سعودی عرب نے مدینہ منورہ کے خطے میں یورینیئم اور دیگر معدنیات کے ایک بہت بڑے ذخیرے کی دریافت کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔

ویانا میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سترویں جنرل کانفرنس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے بتایا کہ مدینہ منورہ کے قریب واقع جبل صاید پروجیکٹ میں کی جانے والی جیولوجیکل تحقیق اور دریافتوں سے تقریبا 110 ملین ٹن خام مال کی موجودگی کا پتہ چلا ہے، جس میں کمیاب معدنیات کے ساتھ ساتھ یورینیئم کی بہترین مقدار موجود ہے۔سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کا کہنا تھا کہ جبل صاید پروجیکٹ کی دریافت نے اسے بین الاقوامی سطح پر تیار کیے جانے والے کمیاب معدنی وسائل کے سب سے اہم ترین مقامات میں شامل کر دیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب بین الاقوامی برادری سے الگ تھلگ ہو کر یا پہاڑوں کی گہرائیوں میں چھپی ہوئی خفیہ سہولیات کے ذریعے اپنا ایٹمی پروگرام نہیں بنا رہا، بلکہ مملکت کا طویل المیعاد رویہ مکمل طور پر شفافیت، کھلے پن اور بین الاقوامی تعاون کی بنیادی اصولوں پر قائم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان توانائی اور معدنی وسائل کی تنوع معاشی ترقی اور سپلائی کی سیکیورٹی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے بحران اور تنازعات کے پس منظر میں یہ اہم دریافت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اپنے ویژن 2030 کے تحت تیل پر انحصار کم کر کے توانائی کے دیگر ذرائع اور ملکی سطح پر سویلین ایٹمی صلاحیت بڑھانے کی کوششیں کر رہا ہے۔اس دریافت سے قبل جولائی میں امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب کے سویلین نیوکلیئر پروگرام کو فروغ دینے میں مدد فراہم کریں گی اور ریاض کو اپنی سر زمین پر امریکی نگرانی کے بغیر بھی یورینیئم کی افزودگی کے اختیارات حاصل ہوں گے۔

عرب دنیا کی سب سے بڑی معیشت سعودی عرب کے لیے مذہبی اور تاریخی حوالے سے اہم ترین خطے مدینہ منورہ میں یورینیئم کی اتنی بڑی مقدار ملنا معاشی اور دفاعی دونوں لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت خطے میں سویلین ایٹمی توانائی اور جدید معدنیات کے شعبے میں سعودی عرب کے قدم مزید مضبوط کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…